صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 517 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 517

۵۱۷ ۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل و و صحیح البخاری جلد ۱۰ خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ : یعنی تنگ دستی کے خوف سے۔فرماتا ہے: قُل لَوْ أَنْتُمْ تَهْلِكُونَ خَذَ ابنَ رَحْمَةِ رَبِّي إِذَا لامُسَلْتُم خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ وَ كَانَ الْإِنْسَانُ فَتُوران (بنی اسرائیل: ۱۰۱) کہہ اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک بھی ہو جاؤ تو بھی تم تنگ دستی کے خوف سے خرچ کرنے سے رُک جاتے اور انسان بڑا ہی کنجوس ہے۔خرچ میں بہت تنگی سے کام لیتا ہے۔انفق کے معنی افتقر ( أقرب الموارد- نفق) تہی دست ہو گیا۔لاذقان : ذقن کی جمع ہے ٹھوڑی۔یہ معنی ابو عبیدہ سے منقول ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۰) سجدہ پیشانی کے بل کیا جاتا ہے لیکن عرب لوگ نہایت درجہ تذکل اور عاجزی کے اظہار کے لئے ٹھوڑیوں کے بل گرنا بولتے ہیں۔کیونکہ ان کے نزدیک داڑھی بڑی عزت سمجھی جاتی ہے۔داڑھیوں کے بل گرنے سے یہ سمجھانا مقصود ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی ساری عزت خاک میں ملادی۔غایت درجہ تذلیل کے اظہار ہی میں فرماتا ہے: قُلْ أَمِنُوا بِهَ أَو لا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا (بنی اسرائیل: ۱۰۸) کہہ یہ بات مانو یا نہ مان جو پہلے سے علم دئے گئے ہیں یقینا وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل گر پڑتے ہیں جب ان پر (کلام اللہ) پڑھا جاتا ہے۔اس آیت کے بعد لفظ اذقان اسی مفہوم میں دوبارہ آیا ہے۔طبری نے علی بن ابی طلحہ کے واسطے سے اذقان کا مفہوم و جوها بیان کیا ہے۔یعنی مونہوں کے بل گر پڑتے ہیں، مراد پیشانیاں ہیں اور قتادہ سے بھی یہی مفہوم مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۱) گویا لفظ آذقان بطور مجاز استعمال ہوا ہے۔مابعد کا سیاق کلام یہ ہے: وَيَقُولُونَ سُبحْنَ رينَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبَّنَا لَمَفْعُولان وَ يَخِرُّونَ لِلأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًان (بنی اسرائیل: ۱۰۹، ۱۱۰) اور وہ کہتے ہیں ہمارا رب ہر عیب سے پاک ہے۔ہمارے رب کا وعدہ یقینا پورا ہو کر رہنے والا ہے اور وہ اپنے مونہوں کے بل گر جاتے ہیں روتے ہوئے اور یہ ( قرآن ) ان کی زاری کو اور بھی بڑھاتا ہے۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ مَوْفُورًا : مَوْفُور اسم مفعول بمعنی وافر اسم فاعل آیا ہے۔فرماتا ہے: قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاؤُكُمْ جَزَاء قَوفُوران (بنی اسرائیل: ۶۴) فرمایا: چل دُور ہو کیونکہ جو اُن میں سے تیری پیروی کریں گے تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پورا پورا بدلہ ہو گا۔طبری نے عبد اللہ بن ابی نجیح کے ذریعہ مجاہد سے اس کے معنی سواء نقل کئے ہیں۔یعنی بر ابر کابدلہ نہ کم نہ زیادہ۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه (۵۰) تبيعا: پیروی کرنے والا۔فَعِيل بمعنی فاعِل۔مجاہد نے اس کے معنی تائیوا کئے ہیں یعنی انتقام لینے والا۔شار کے معنی ہیں انتقام۔فرماتا ہے: ثم لَا تَجِدُوا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبيعان (بنی اسرائیل: ۷۰) تم (اس سزا کی وجہ سے) کوئی ایسا شخص نہیں پاؤ گے جو اس کا بدلہ لینے کے لئے ہمارا پیچھا کرنے والا ہو۔اس آیت کے تعلق میں حضرت ابن عباس سے تبيعا کے معنی تصيرا نقل کئے گئے ہیں۔یہ قول ابن ابی حاتم کا ہے جو انہوں نے علی بن ابی طلحہ کے ذریعہ نقل کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه (۵۰) تبيعا کے معنی تابع یا تاثر یا نصیر کئے جائیں، مفہوم ایک ہی ہے یعنی خدا کی پکڑ کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔حبت کے معنی ہیں سمجھ گئی۔فرماتا ہے : مَأْوَبِهُمْ جَهَنَّمُ - كَمَا خَبَتْ زِدُنْهُمْ سَعِيدان (بنی اسرائیل: ۹۸)