صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 31
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ کتاب التفسير / البقرة بَاب : وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبُحْنَة (البقرة: ١١٧) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے (اپنے لئے ) ایک بیٹا بنا لیا ہے (ان کی بات درست نہیں) وہ ( تو ہر کمزوری سے) پاک ہے ٤٤٨٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۴۴۸۲ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ نے ہمیں بتایا کہ عبد اللہ بن ابی حسین سے مروی ہے حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ (انہوں نے کہا) کہ نافع بن جبیر نے ہمیں بتایا۔اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللهُ كَذَّبَنِي ابْنُ حضرت ابن عباس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ ذَلِكَ وَشَتَمَنِي وَلَمْ ابن آدم نے میری تکذیب کی اور یہ اس کو نہیں يَكُن لَّهُ ذَلِكَ فَأَمَّا تَكْذِيْبُهُ إِيَّايَ چاہیے تھا، اور اس نے مجھ کو گالیاں دیں اور اس کو فَزَعَمَ أَنِّي لَا أَقْدِرُ أَنْ أُعِيْدَهُ كَمَا یہ نہیں چاہیے تھا۔اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ اس كَانَ وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ لِي وَلَدٌ نے خیال کیا کہ میں اس کو پھر ویسے کا ویسا دوبارہ فَسُبْحَانِي أَنْ أَتَّخِذَ صَاحِبَةً أَوْ وَلَدًا (پیدا) نہیں کر سکتا جیسا کہ وہ تھا اور اس کا مجھے گالیاں دینا، یہ کہنا ہے کہ میرا ایک بیٹا ہے۔میں پاک ہوں اس سے کہ کسی کو جو رو یا بیٹا بناؤں۔نشريح: وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحنه: روایت ۴۳۸۲ احادیث قدسیہ میں سے ہے۔حدیث قدسی وہ ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کا قول منقول ہو۔جسے کامل علم اور کامل قدرت ہو، ایسی علیم و قدیر ذات سے متعلق یہ خیال کہ وہ اعادہ خلق یا موجودہ نظام سے بہتر نہیں بنا سکتا ہے، اس کی طرف عجز منسوب کرنے کے مترادف ہے، جو اس کی صفات کاملہ کی تکذیب ہے۔فانی مخلوق اپنی نوع کی بقاء و دوام کے لئے اولاد کی محتاج ہوتی ہے، جو اس کی وارث ہو کر اس کا سلسلہ قائم رکھے۔اسی لئے غیر فانی اشیاء میں سلسلہ تناسل نہیں۔پس خالق کا بیٹا تجویز کرنے کے لازما یہ معنی ہوں گے کہ وہ فانی ہے اور اولاد کا محتاج۔جو اس کے لئے گالی کے مترادف ہے۔گالی میں نقص و عیب منسوب کیا جاتا ہے۔اسی لئے محولہ بالا آیت میں سبحنہ کہہ کر خالق کو بے عیب قرار دیا گیا ہے۔پوری آیت یہ ہے : وَقَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا سُبْحَنَةَ بَلْ لَّهُ مَا فِي السَّمَوتِ