صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 516 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 516

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۶ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل سے مروی ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۰) اس سے اس آیت کی شرح کرنا مقصود ہے : وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِرُّونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَ إِذَا لَا يَلْبَثُونَ خِلْفَكَ إِلَّا قَلِيلًا ( بنی اسرائیل : (۷۷) اور وہ یقینا تجھے اس ملک سے نکالنے کے مختلف حیلے کرتے رہتے ہیں تا کہ مجھے ڈرا کر ملک سے باہر نکال دیں۔ مگر (ایسا ہو اتو) وہ (خود بھی ) تیرے بعد تھوڑا عرصہ ہی ( محفوظ رہیں گے ( اور جلد تباہ ہو جائیں گے ) ونا : یہ لفظ اس آیت میں آیا ہے : وَإِذَا انْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ ۚ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يوسا (بنی اسرائیل: ۸۴) اور جب ہم انسان پر انعام کریں تو وہ رو گردان ہو جاتا ہے اور اپنے پہلو کو (اس سے) دور کر لیتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچے تو وہ بہت ہی مایوس ہو جاتا ہے۔ نا بجانبه : تَبَاعَدَ اور أَعْرَضَ - روگردانی کی۔ یہ تشریح بھی ابو عبیدہ ہی سے مروی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۰) اور عینی نے عطاء بن ابی رباح سے اس کے معنی تعظم وتكبر نقل کئے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھا اور کبر کا اظہار کیا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۴) شاكلته : طبری نے بواسطہ علی بن ابی طلحہ ، حضرت ابن عباس سے شاكِلَتِہ کا مترادف عَلَى نَاحِيَتِهِ نقل کیا ہے، اپنے ڈھب یا اپنے طریق کے مطابق، اور مجاہد سے بواسطہ ابن ابی نجیح اس کا مترادف عَلَى طَبِيعَتِهِ وَعَلَى حِدَتِهِ نقل کئے ہیں اور ابو عبیدہ سے وَخِلْقَتِہ بیان کئے ہیں یعنی اپنی طبیعت اپنی طرزیا اپنی خلقت کے مطابق۔ فرماتا ہے: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا ( بنی اسرائیل: ۸۵) کہہ ہر فریق اپنے اپنے ڈھب پر (یا طبیعت کے موافق یا طرز پر عمل کر رہا ہے۔ سو تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے جو زیادہ صحیح راستے کو اختیار کئے ہوئے ہے۔ کہتے ہیں: هَذَا مِنْ شَكل هند۔ یہ اس کی مانند ہے، اس کی طرح ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۰) صَرَّفْنَا : وَجَّهْنَا ۔ یعنی ہم نے مختلف پہلوؤں سے توجہ دلا دی ہے۔ اس سے اس آیت کی شرح مقصود ہے: وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا ( بني اسرائيل: ۴۲) اور ہم نے اس قرآن میں ( ہر بات ) مختلف پہلوؤں سے بار بار بیان کر دی ہے تا وہ نصیحت حاصل کریں۔ لیکن (اس کے باوجود) یہ انہیں نفرت ہی میں بڑھاتا رہا ہے۔ قَبِيلاً : مُعَايَنَةً - آنکھوں کے - - آنکھوں کے سامنے ، روبرو، آمنے سامنے۔ فرماتا ہے : أَو تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِي بِاللهِ وَالْمَلَكَةِ قَبِيلًا ( بنی اسرائیل : ۹۳) یا جیسا کہ تیرا خیال ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دے یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے آمنے سامنے لے آ کہ ہم آنکھوں سے دیکھ لیں۔ ) قبیلا کے یہ معنی ابو عبیدہ نے بیان کئے ہیں۔ اس تعلق میں اعلٰی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے : كَفَرْعَةِ حُبْلَى بَشر عهَا قَبِيلُهَا۔ جیسے حاملہ کی چیخ جسے دایہ نے بشارت دی۔ داریہ کو عربی زبان میں القابِلَةُ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ سامنے سے بچے کو لیتی ہے۔ ابن ابی حاتم نے قبیل کے معنی فوج کئے ہیں جو آنکھوں سے دیکھ لی جائے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۰) سورۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّهُ يَريكُم هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ (الاعراف: ۲۸) یعنی وہ (شیطان) اور اس کی فوج تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے۔