صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 516
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۶ ۲۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل سے مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۰) اس سے اس آیت کی شرح کرنا مقصود ہے: وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِذُونَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَ إِذَا لَا يَلْبَثُونَ خِلْفَكَ إِلا قَلِيلًا ( بنی اسرائیل: ۷۷) اور وہ یقینا تجھے اس ملک سے نکالنے کے مختلف حیلے کرتے رہتے ہیں تاکہ تجھے ڈرا کر ملک سے باہر نکال دیں۔مگر ( ایسا ہوا تو ) وہ (خود بھی ) تیرے بعد تھوڑا عرصہ ہی ( محفوظ رہیں گے ( اور جلد تباہ ہو جائیں گے ) ونا : یہ لفظ اس آیت میں آیا ہے: وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ ۚ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُ كَانَ يوسان (بنی اسرائیل: ۸۴) اور جب ہم انسان پر انعام کریں تو وہ رو گردان ہو جاتا ہے اور اپنے پہلو کو (اس سے) دور کر لیتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچے تو وہ بہت ہی مایوس ہو جاتا ہے۔نا بِجانِبِهِ : تَبَاعَدَ اور أَعْرَضَ - رو گردانی کی۔یہ تشریح بھی ابو عبیدہ ہی سے مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۰) اور عینی نے عطاء بن ابی رباح سے اس کے معنی تعظم وتكبر نقل کئے ہیں۔یعنی اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھا اور کبر کا اظہار کیا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۴) شاكلته: طبری نے بواسطه علی بن ابی طلحہ ، حضرت ابن عباس سے شاکیہ کا مترادف على نَاحِيَتِهِ نقل کیا ہے، اپنے ڈھب یا اپنے طریق کے مطابق، اور مجاہد سے بواسطہ ابن ابی بیج اس کا مترادف عَلَى طَبِيعَتِهِ وَعَلَى حِدَتِهِ نقل کئے ہیں اور ابو عبیدہ سے وَخِلْقَتِهِ بیان کئے ہیں یعنی اپنی طبیعت اپنی طرز یا اپنی خلقت کے مطابق۔فرماتا ہے: قُلْ كُل يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبَّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا ( بنی اسرائیل: ۸۵) کہہ ہر فریق اپنے اپنے ڈھب پر (یا طبیعت کے موافق یا طرز پر ) عمل کر رہا ہے۔سو تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے جو زیادہ صحیح راستے کو اختیار کئے ہوئے ہے۔کہتے ہیں : هَذَا من شكل هذ۔یہ اس کی مانند ہے، اس کی طرح ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۰) صَرَّفْنَا: وَجَهَنَا۔یعنی ہم نے مختلف پہلوؤں سے توجہ دلا دی ہے۔اس سے اس آیت کی شرح مقصود ہے: وَلَقَدْ صَرَفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِيَذْكُرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلا نُفُوران ( بنى اسرائیل: ۴۲) اور ہم نے اس قرآن میں ( ہر بات ) مختلف پہلوؤں سے بار بار بیان کر دی ہے تا وہ نصیحت حاصل کریں۔لیکن (اس کے باوجود) یہ انہیں نفرت ہی میں بڑھاتا رہا ہے۔قَبِيلاً : مُعَايَنَةً - آنکھوں کے سامنے ، روبرو، آمنے سامنے۔فرماتا ہے: أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللهِ وَالْمَلَكَةِ قَبِيلاً ) ( بنی اسرائیل: ۹۳) یا جیسا کہ تیر اخیال ہے تو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دے یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارہے آمنے سامنے لے آ کہ ہم آنکھوں سے دیکھ لیں۔) قبیلا کے یہ معنی ابو عبید ہونے بیان کئے ہیں۔اس تعلق میں اعشی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے: كَصَر حَة حُبْلَ بَشَرَ عَبَا قَبِيْلُهَا۔جیسے حاملہ کی پیچ جسے دایہ نے بشارت دی۔دایہ کو عربی زبان میں القابلہ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ سامنے سے بچے کو لیتی ہے۔ابن ابی حاتم نے قبیل کے معنی فوج کئے ہیں جو آنکھوں سے دیکھ لی جائے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۵۰۰) سورۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّهُ يَركُم هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لا تَرَوْنَهُم (الاعراف: ۲۸) یعنی وہ (شیطان) اور اس کی فوج تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے۔