صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 515 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 515

۵۱۵ ۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل صحیح البخاری جلد ۱۰ آیت یہ ہے: وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْتَهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَهُمْ مِنَ الطَّيْبَتِ وَ فَضَّلْنَهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلات (بنی اسرائیل: اے) اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو بہت شرف بخشا ہے اور ان کے لئے خشکی اور تری میں سواری کا سامان پیدا کیا ہے اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا ہے اور جو مخلوق ہم نے پیدا کی ہے اس میں سے پیشتر حصے پر ہم نے انہیں بہت بڑی فضیلت دی ہے۔ضِعْفَ الْحَيَوةِ وَضِعُفَ الْمَمَاتِ : یہ جملہ دراصل یوں ہے : ضِعْفَ عَذَابَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ عَذَابَ الْمَمَاةِ عَذَاب- ضعف کا مضاف الیہ ہے اور مقدر و محذوف ہے۔ایسے مضاف الیہ عربی میں اکثر محذوف ہو جاتے ہیں اور سیاق کلام سے پڑھنے سننے والا سمجھ جاتا ہے۔طبری نے بحوالہ ابن ابی نجیج، مجاہد سے نقل کیا ہے کہ اس آیت سے دنیا و آخرت کی سزا مراد ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۹۹) در اصل جب دنیا میں سزا ملتی ہے تو روح اور جسم دونوں ہی مبتلا ہوتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ جسم سزا پائے اور روح اس سے متاثر نہ ہو اور نہ یہ ہوتا ہے کہ روح سزا پائے اور جسم غیر متاثر رہے۔یہی حال موت کے بعد کی زندگی میں بھی ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ سبا آیت نمبر ۳۸ میں فرماتا ہے: وَمَا اَمْوَالُكُمْ وَلَا اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِيكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَبِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضَّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرفتِ أُمِنُونَ ) اور تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ایسی چیز نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں۔ہاں جو ایمان لاتا ہے اور اس کے مناسب حال عمل کرتا ہے (وہی ہمارا مقرب ہوتا ہے ) اور ایسے ہی لوگوں کو ان کے اچھے اعمال کی وجہ سے بڑھ بڑھ کر بدلے ملیں گے اور وہ بالا خانوں میں امن سے زندگی بسر کریں گے۔یہاں اس آیت میں لفظ ضعف بغیر کسی اضافت کے استعمال ہوا ہے۔یعنی ضعف الحلوة يا ضِعْفَ الْمَسَاتِ نہیں۔لیکن مراد یہی ہے کہ انہیں اس زندگی میں اور بعد الموت کی زندگی میں بڑھ چڑھ کر بدلے ملیں گے۔آخرت میں بھی روح کو ایک جسم عطا کیا جائے گا جو نورانی یا ظلمانی جسم ہو گا۔اس تعلق میں دیکھئے اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحہ ۴۰۵ ضِعْفَ الْحَيَوةِ وَ ضِعْفَ الْمَسَاتِ میں جو لفظ عذاب مقدر سمجھا گیا ہے اس بارے میں نہ صرف مجاہد ہی کا قول ہے بلکہ قتادہ سے بھی یہی مروی ہے۔پورا سیاق یہ ہے: وَلَوْلَا أَن تَبتُنكَ لَقَدْ كِرْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا إِذَا لا ذَقْنَكَ ضِعْفَ الْحَيَوةِ وَضِعُفَ الْمَسَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا ( بنی اسرائیل: ۷۶،۷۵) اور اگر ہم تجھے ( قرآن دے کر ) ثبات نہ بخش چکے ہوتے تو پھر بھی یہی ہوتا کہ) تو ( بغیر الہام کے بھی) ان کی طرف بہت کم باتوں میں مائل ہوتا ( مگر اب تو تجھے وحی الہی نے صحیح راستہ بتا دیا ہے ) ( اور اگر جیسا کہ ان کا خیال ہے تو ہم پر افترا باندھنے والا ہوتا ) تو اس صورت میں ہم تجھے زندگی کا بڑا عذاب اور موت کا بڑا عذاب چکھاتے ( اور ) پھر تو ہمارے مقابل پر اپنا کوئی (بھی) مددگار نہ پاتا۔اس آیت میں ضعف - عَذَاب کے لئے بطور صفت واقع ہوا ہے۔یعنی لاذقنك عَذَابًا ضعفًا فِي الْحَيَوةِ وَ بَعْدَ الْمَمَاتِ عَذَاب جو محذوف ہے موصوف واقع ہوا ہے اور اس موصوف کو حذف کر کے ضعف مضاف کیا گیا ہے۔اور موصوف مقدر کے لئے قائم مقام ہے۔یہ شرح ابو عبیدہ سے مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۹۹) خلْفَكَ کے وہی معنی ہیں جو خَلقت کے ہیں یعنی بَعْدَكَ تیرے پیچھے۔یہ مفہوم بھی ابو عبیدہ سے ہی مروی ہے اور دونوں قراء تیں منقول ہیں ، خلفك اور خَلْفَكَ خَلْفَكَ جمہور کی قراءت ہے اور خلفك ابن عامر کی جو حفص