صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 514 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 514

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۴ ۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل كلِهِ صَرَّفنا (بنی اسرائیل: ۹۰) صرفنا کے معنی ہیں: ہم نے (اسے) توجہ دلائی یا وَجَّهْنَا قَبِيلًا (بنی اسرائیل: ۹۳) مُعَايَنَةٌ منہ پھیرا۔قبیلا کے معنی ہیں: آنکھوں کے وَمُقَابَلَةً وَقِيلَ الْقَابِلَةُ لِأَنَّهَا مُقَابِلَتُهَا سامنے ، آمنے سامنے۔اور ( دایہ کو) القَابِلَةُ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ زچہ کے سامنے ہو کر بچے کو وَتَقْبَلُ وَلَدَهَا خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ (بنى لیتی خَشْيَةَ الْإِنْفَاقِ یعنی تنگ دستی کے ہے۔اسرائيل: ١٠١) أَنْفَقَ الرَّجُلُ أَهْلَقَ وَنَفِقَ خوف سے۔(کہتے ہیں:) أَنْفَقَ الرَّجُلُ: یعنی تہی الشَّيْءُ ذَهَبَ۔قَتُورا (بنی اسرائیل: ۱۰۱) دست ہو گیا اور نفق الشنی کے معنی ہیں چیز ختم مُقَيّرًا لِلْأَذْقَانِ (بنی اسرائیل: ۱۰۸) ہو گئی۔فتورا کے معنی ہیں: بڑا ہی کنجوس، بخیل، مُجْتَمَعُ اللَّحْيَيْنِ وَالْوَاحِدُ ذَقَنٌ۔وَقَالَ تنگ دست۔للاذقان وہ جگہ جہاں دو جبڑے ملیں۔(یعنی ٹھوڑی کے بل) اس کی واحد ذقن مُجَاهِدٌ مَوْفُورًا ( بني اسرائيل: ٦٤) وَافِرًا۔تبيعا (بنی اسرائیل: ۷۰) ثَائِرًا، وَقَالَ ہے۔اور مجاہد نے کہا: مَوْفُورًا کے معنی ہیں بڑھ چڑھ کر۔تبیعا کے معنی ہیں: بدلہ لینے والا۔اور ورد و ابْنُ عَبَّاسِ نَصِيرًا۔خَبَتْ (بنی اسرائیل: ۹۸) حضرت ابن عباس نے کہا: (تبیعا کے معنی ہیں) طَفِئَتْ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لَا تُبَرِّد مددگار۔خَبَتْ کے معنی ہیں: بجھ گئی۔اور حضرت (بنی اسرائیل: ۲۷) لَا تُنْفِقُ فِي ابن عباس نے کہا: لا تبنر کے معنی ہیں: بے سود الْبَاطِلِ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ (بنی اسرائیل: ۲۹ کاموں میں خرچ نہ کرو۔ابْتِغَاء رَحْمَةٍ کے معنی رِزْقِ۔مَثْبُورًا (بنی اسرائیل: ۱۰۳) ہیں: رزق کی تلاش میں۔مَثْبُورًا کے معنی ہیں: مَلْعُونًا۔لَا تَقْفُ (بنی اسرائیل: ۳۷) لا رحمت سے دور کیا ہوا، ہلاک شدہ۔لا تقف یعنی وہ بات نہ کہو (جس کا مجھے علم نہیں)۔فَجَاسُوا تَقُلْ۔فَجَاسُوا ( بني اسرائيل: ٦) تَيَمَّمُوا۔کے معنی ہیں: انہوں نے رُخ کیا۔يُرجى الْفُلْكَ يُزْجِيَ الْفُلْكَ يُجْرِي الْفُلْكَ۔يَخِرُّونَ کے معنی ہیں وہ کشتیاں چلاتا ہے۔يَخِرُّونَ لاذقان (بنی اسرائیل: ۱۰۸) لِلْوُجُوهِ للاذقان یعنی وہ مونہوں کے بل گر پڑتے ہیں۔تشريح۔وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ : ابو عبیدہ کے نزدیک گرھنا جو باب تفضیل سے ہے زیادہ بلیغ : ہے۔اور یہ گرم سے نہیں جس کے معنی مال ہیں بلکہ گڑھ سے ہے یعنی شرف یعنی عزت۔گرمنا کے معنی ہیں شرفنا بہت بڑی عزت بخشی، غایت درجہ عزت سے نوازا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۹۹) پوری