صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 513 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 513

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۳ -۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل القاديان سُمّى أقضى لبعده من زمان النبوة ولما وقع في اقصى طرف من زمن ابتداء الاسلام فتدير هذا المقام فانه اودع اسرارًا من الله العلام (خطبہ الہامیہ ، روحانی خزائن جلد ۱۶ حاشیه صفحه ۲۶،۲۵) بَاب ٤ : وَلَقَد كَرَّمْنَا بَنِي آدَم (بنی اسرائیل: ۷۱) (اللہ تعالی کا فرمانا: یقیناً ہم نے بنی آدم کو بہت بڑی عزت بخشی ہے كرمنا بنی اسرائیل: ۷۱) وَأَكْرَمْنَا كَرَمْنَا اور اكرمنا کے ایک ہی معنی ہیں۔وَاحِدٌ۔ضِعْفَ الْحَيَوةِ وَضِعُفَ الْمَمَاتِ ضِعْفَ الْحَيَوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ( میں لفظ عَذَاب (بنی اسرائیل: ٧٦) عَذَابَ الْحَيَاةِ محذوف ہے) کا مطلب ہے: دنیوی زندگی کی سزا وَعَذَابَ الْمَمَاتِ خِلْفَكَ (بنی اور مرنے کے بعد کی سزا۔خِلْفَكَ اور خَلْفَكَ اسرائيل: ٧٧) وَخَلْفَكَ سَوَاءٌ وَنَا دونوں ایک ہی معانی میں ہیں۔یعنی تیرے (بنی اسرائیل: ٨٤) تَبَاعَدَ شَاكِلَتِه پیچھے اور نا کے معنی ہیں دور ہوا۔شاکلیہ کے (بنی اسرائیل: ٨٥) نَاحِيَتِهِ وَهِيَ مِنْ معنی ہیں اپنی طرز پر ، یعنی اپنی شکل یا طریق پر۔ا ترجمہ : ”زمانہ کے دو حصے ہیں (۱) تائیدات اور آفات کے دور کرنے کا زمانہ (۲) برکات اور پاکیزہ تعلیمات کے پھیلانے کا زمانہ۔اس کی طرف خداوند تعالیٰ نے اپنے قول سبحنَ الَّذِی أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَہ میں اشارہ فرمایا ہے۔سو جاننا چاہیے کہ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کا لفظ اس آیت میں اس زمانہ پر دلالت کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی محرمات کی عزت و احترام اللہ کی تائید سے ظاہر ہوئی اور اس کے مقرر کردہ حدود، احکام اور فرائض کا جلال ظاہر ہوا اور اس کے دین کی شوکت اور اس کی ملت کا رُعب صاف نظر آگیا، اور یہ زمانہ ہمارے نبی صلی علی کا زمانہ ہے۔اور الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ شریف میں تعمیر کیا اور وہ اس وقت تک موجود ہے۔اللہ تعالیٰ اسے ہر آفت سے محفوظ رکھے۔آیت میں الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے بعد کا حصہ یعنی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِى بُرَكْنَا حَوْلَہ اس زمانہ پر دلالت کرتا ہے جس میں زمین پر ہر جہت سے برکات کا ظہور ہو گا، جیسا کہ ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں۔اور یہ مسیح موعود اور مہدی معہود کا زمانہ ہے۔اور مسجد اقصیٰ وہ مسجد ہے جس کو مسیح موعود نے قادیان میں بنایا۔اسے اقصیٰ (یعنی دور والی) مسجد اس لئے قرار دیا گیا کہ وہ زمانہ نبوت سے دور ہے اور ابتدائے اسلام کے زمانہ سے ایک طرف واقع ہے۔پس تو اس مقام پر غور کر کیونکہ اس میں خدائے علام الغیوب کی طرف سے بہت سے راز ودیعت کئے گئے ہیں۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود، سورہ بنی اسرائیل، آیت: سُبحن الذی اسرى بِعَبْدِه ، جلد ۳ حاشیه صفحه ۴۵)