صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 512 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 512

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۲ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل رسول ہوں انسان اس طرح اُڑ کر کبھی آسمان پر نہیں جاتے۔ یہی سنت اللہ قدیم سے جاری ہے۔“ الحکم جلد ۰ انمبر ۲۱ مورخہ ۱۷، جون ۱۹۰۶ء صفحه ۴) ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا: خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج تین قسم پر منقسم ہے۔ سیر مکانی اور سیر زمانی " اور سیر لا۔ اور سیر لا مکانی " ولا زمانی۔ سیر مکانی میں اشارہ ہے طرف غلبہ اور فتوحات پر۔ یعنی یہ اشارہ کہ اسلامی ملک مکہ سے بیت المقدس تک پھیلے گا۔ اور سیر زمانی میں اشارہ ہے طرف تعلیمات اور تاثیرات کے۔ یعنی یہ کہ مسیح موعود کا زمانہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات سے تربیت یافتہ ہو گا، جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے: وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة : ۴)۔ اور سیر لامکانی ولا زمانی میں اشارہ ہے طرف اعلیٰ درجہ کے قرب اللہ اور مدانات کی، جس پر دائرہ امکان قرب کا ختم ہے۔“ نیز آپ نے فرمایا: “ (خطبہ الہامیہ ، روحانی خزائن جلد ۶ احاشیه صفحه ۲۶) ان الزمان زمانان زمان التأئيدات ودفع الأفات وزمان البركات والطيبات واليه اشار عزاسمه بقوله سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بَرَكَنَا حَوْلَهُ (بنی اسرائیل: ۲) فاعلم ان لفظ مسجد الحرام في قوله تعالى يدل على زمان فيه ظهرت عزة حرمات الله بتائید من الله وظهرت عزة حدوده و احكامه و فرائضه و تراءت شوكة دينه ورعب ملته وهو زمان نبينا صلى الله عليه وسلم والمسجد الحرام البيت الذي بناه ابراهيم عليه السلام فى مكة وهو موجود الى هذا الوقت حرسه الله من كل آفة واما قوله عز اسمه بعد هذا القول اعنى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ فيدل على زمان فيه يظهر بركات في الارض من كل جهة كما ذكرناه أنفا وهو زمان المسيح الموعود والمهدي المعهود والمسجد الاقصى هو المسجد الذي بناه المسيح الموعود في