صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 511
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۱ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل (خدا) کی پاکیزگی ( بیان کرتا ہوں) جو رات کے وقت اپنے بندے کو (اس) حرمت والی مسجد سے (اس) ڈور والی مسجد تک، جس کے ارد گرد کو (بھی) ہم نے برکت دی ہے ( اس لئے ) لے گیا تاہم اُسے اپنے بعض نشان دکھلائیں۔ یقیناً وہی (خدا) ہے جو (اپنے بندوں کی پکار کو خوب سننے والا ( اور ان کی حالتوں کو) خوب دیکھنے والا ہے۔ اسری کے تعلق میں جو میں جو مکاشفہ آ آنحضرت صلی اللہ سلم کو ہوا تھا اس کی نسبت کئی ایک روایتیں مروی ہیں جن سے پایا جاتا ہے ہے کہ کہ قریش مکہ نے آنحضرت صلی عوام کو جھٹلایا بلکہ آپ کا مذاق اڑایا۔ امام بخاری نے وہ روایتیں نظر انداز کر دی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے معیار کے مطابق نہیں۔ لیکن صحاح ستہ کی باقی کتابوں نے یہ روایتیں نقل کی ہیں۔ ان میں سے ایک اسے ایک وہ روایت ہے جو اس باب اس باب کی روایت نمبر ۴۷۱۰ میں اختصار سے نقل کی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ جب آپ نے قریش سے ذکر کیا کہ آپ کو راتوں رات بیت المقدس لے جایا گیا ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کی صورت و شکل بتائی جائے اور آپؐ نے بیان کی۔ ایک اور روایت میں ذکر ہے کہ مشرکین میں ۔ کین میں سے ایک شخص حضرت ابو بکر کے پاس آیا اور کہا کہ آپ کا ساتھی یہ یہ کہتا ہے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: أَو قَالَ ذلِك - کیا واقعی محمد (صلی الله م) صلی علیہ نے یہ کہا ہے ؟ تو اس نے کہا: ہاں۔ ا۔ حضرت ابو بکر نے کہا : لَقَدْ صَدَقَ : تو پھر یقینا انہوں نے سچ کہا ہے۔ کے یہ روایت یعقوب بن ابراہیم کے حوالے سے امام احمد بن حنبل نے بھی نقل کی ہے۔ سے آنحضرت صلی الیم کے اس مکاشفہ کے متعلق سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا تھا۔ مگر اس میں جو بعض لوگوں کا عقیدہ ہے کہ وہ صرف ایک معمولی خواب تھا، سو یہ عقیدہ غلط ہے۔ اور جن لوگوں کا عقیدہ ہے کہ معراج میں آنحضرت اسی جسد عصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے تھے ، سو یہ عقیدہ بھی غلط ہے۔ بلکہ اصل بات اور صحیح عقیدہ یہ ہے کہ معراج کشفی رنگ میں ایک نورانی وجود کے ساتھ ہوا تھا۔ وہ ایک وجود تھا مگر نورانی اور ایک بیداری تھی مگر کشفی اور نورانی جس کو اس دنیا کے لوگ نہیں سمجھ سکتے مگر وہی جن پر وہ کیفیت طاری ہوئی ہو۔ ورنہ ظاہری جسم اور ظاہری بیداری کے ساتھ آسمان پر جانے کے واسطے تو خود یہودیوں نے معجزہ طلب کیا تھا جس کے جواب میں قرآن شریف میں کہا گیا تھا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرً ا رَسُولًا (بنی اسرائیل: ۹۴) کہہ دے میر ارب پاک ہے میں تو ایک انسان وو ا (مسلم، كتاب الإيمان، باب ذكر المسيح ابن مريم ، والمسيح الدجال) (ترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب و من سورة بنی اسرائیل، جزء ۵ صفحه ۳۰۱) (مصنف عبد الرزاق، کتاب المغازی، باب ذكر بعض ما يتعلق بالإسراء، جزء ۵ صفحه ۳۲۱) (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند جابر بن عبد الله الله، جزء ۳ صفحه ۳۷۷)