صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 510
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل قَالَ جِبْرِيلُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ ایک دودھ کا۔ آپؐ نے ان دونوں کو دیکھا اور پھر لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ۔ دودھ کو لے لیا۔ جبرائیل نے کہا: الحمد للہ جس نے آپ کو فطرت کی طرف راہنمائی کی ہے۔ اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ أطرافه: ٣٣٩٤ ٣٤٣٧، ٥٥٧٦، ٥٦٠٣۔ ٤٧١٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ۴۷۱۰: احمد بن صالح نے ہمیں بتایا کہ (عبد الله ) حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ابن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ یونس نے مجھے خبر دی۔ ابن شہاب سے مروی سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ ہے کہ ابو سلمہ نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عبد اللہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتے تھے : میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَمَّا كَذَّبَنِي في سلم ہے۔ صلی علی روم سے سنا، آپ فرماتے تھے : جب : جب قریش نے مجھے جھٹلایا میں حجر ( مقام حطیم ) میں کھڑا تھا تو عد الله قُرَيْسٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَّى اللهُ اللہ نے بیت المقدس میرے سامنے لاکر مجھے لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ صاف دکھایا اور میں بیت المقدس کی نشانیاں عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ۔ انہیں بتانے لگا۔ میں اسے دیکھ رہا تھا۔ زَادَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ يعقوب بن ابراہیم نے ( اپنی سند میں) یہ (حصہ ) أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ لَمَّا زائد بیان کیا ہے۔ ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے كَذَّبَتْنِي قُرَيْشٍ حِينَ أُسْرِيَ بِي إِلَى چا (زہری) سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ۔۔ نَحْوَهُ ۔ قَاصِفًا (بنی جب قریش نے مجھے اس وقت جھٹلایا کہ جب میں اسرائیل: (٧٠) رِيحٌ تَقْصِفُ كُلَّ شَيْءٍ ۔ بیت المقدس رات کے وقت لے جایا گیا۔ پھر طرفه ٣٨٨٦ انہوں نے اسی طرح پوری روایت بیان کی۔ قاصِفًا کے معنی ہیں وہ باد تند جو ہر چیز کو توڑ پھوڑ دے۔ تشريح : أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : سورۃ بنی اسرائیل کی دوسری آیت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پوری آیت یوں ہے : سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بَرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ ايْتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (بنی اسرائیل:۲) یعنی (میں) اس