صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 509
صحيح البخاری جلد ۱۰ 0+9 ۶۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل لئے یہ ہدایت ہے کہ ) وہ ( قاتل کو قتل کرنے میں (ہماری مقرر کردہ حد سے آگے نہ بڑھے (اگر وہ حد کے اندر رہے گا) تو یقینا (ہماری) مدد اس کے شامل حال ہو گی۔اس آیت میں سُلطان کے یہ معنی ہیں کہ شریعت نے اس کے لئے قتل کا بدلہ لینے کی جو اجازت دی ہے تو یہ شرعی حجت و دلیل اس کے پاس ہے۔اسی طرح فرماتا ہے: اِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَ - وَكَفَى بِرَيْكَ وَكِيلًا (بنی اسرائیل:۲۶) جو میرے بندے ہیں اُن پر ہرگز تیر ا تسلط نہیں (ہو سکتا) اور (اے میرے بندے!) تیر ارب کار سازی میں (تیرے لئے کافی ہے۔یہاں اس آیت میں بھی سلطان کے معنی قدرت و اختیار کے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے: وَقُل رَبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَنَا نَصِيرًا (بنی اسرائیل: ۸۱) اور کہہ اے میرے رب مجھے (مکہ میں) نیک طور پر داخل کر اور نیک طریق سے (وہاں سے) نکال اور میرے لئے اپنے حضور سے ایسا گواہ بنا جو پورے طور پر مدد کرنے والا ہو۔یہاں سلطن کے معنی شاہد کے ہیں جس کی شہادت پورے طور پر حجت ہو۔وَلِي مِنَ الثَّالِ : کمزوری کی وجہ سے دوست و مددگار۔فرماتا ہے : وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذَ وَلَدًا وَ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكَ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيُّ مِنَ الثَّالِ وَكَبَّرَهُ تَكْبِيرًا (بنی اسرائیل: ۱۱۲) اور (سب دنیا کو سنا سنا کر) کہہ (کہ) ہر تعریف کا مستحق اللہ ہی ہے جو نہ تو اولاد رکھتا ہے اور نہ حکومت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اس کو عاجز پا کر کوئی ( اور اس پر رحم کر کے ) اس کا دوست بنتا ہے (بلکہ جو بھی اس کا دوست ہو تا ہے اس سے مدد لینے کے لئے ہوتا ہے ) اور اس کی خوب (اچھی طرح) بڑائی بیان کر۔باب :٣ اَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (بني اسرائيل: ۲) اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) رات کے وقت وہ اپنے بندے کو (اس) حرمت والی مسجد سے لے گیا ٤٧٠٩: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا :۴۷۰۹: عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ بن عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ ح۔مبارک) نے ہمیں بتایا کہ یونس نے ہمیں خبر دی۔و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نيز احمد بن صالح نے ہمیں بتایا کہ عنبہ ( بن خالد ) عَنْبَسَةٌ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے ہم سے بیان کیا کہ یونس نے ہمیں بتایا۔ابن قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ شہاب سے روایت ہے کہ ابن مسیب نے کہا: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی علیم کے لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ پاس اس رات کو جس میں آپ بیت المقدس لے خَمْرٍ وَلَبَنِ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ جائے گئے دو پیالے لائے گئے ، ایک شراب کا اور