صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 508
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۰۸ -۲۵ کتاب التفسير / بني إسرائيل آئے، تیر وغیرہ سے گھائل کر دیا جائے۔یہاں بھی یہی مراد ہے کہ یہ تجھ سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں کہ کسی بہانے سے تجھے ختم کرنے کا موقع انہیں ملے۔حاصبا کے معنی کنکریلی آندھی جس میں کنکر اور پتھر برسیں۔یہ صورت سخت آندھی میں پیدا ہوتی ہے۔ابو عبیدہ نے اس کے معنی برفانی جھکڑ بھی کئے ہیں اور اس تعلق میں فرزدق کے اس قول کا حوالہ دیا ہے: بِحاصِیب كَنَدِیفِ الْقُطْنِ مَنْشُورٍ۔یعنی ایسی برفانی آندھی سے جیسے دھنی ہوئی روئی ہو اور وہ چاروں طرف سے برسائی جائے۔ابن ابی حاتم نے بواسطہ سعید، قتادہ سے حَاصِبا کے معنی حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بھی نقل کئے ہیں۔یعنی آسمان سے پتھروں کی برسات۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۹۷) تار کی شرح سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے: آم آمِنْتُمْ أَن يُعِيدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً أُخْرَى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِنَ الرِّيحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ثُمَّ لَا تَجِدُوا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهِ تَبِيعًا ( بنی اسرائیل: ۷۰) کیا تم اس بات سے امن میں ہو کہ وہ تمہیں سمندر میں دوبارہ نہ لوٹائے اور تم پر ایک نہایت تند ہوا چھوڑ دے اور تمہیں تمہارے کفر کی وجہ سے غرق کر دے۔پھر تم اپنے لئے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پاؤ۔لاختنكن کے معنی ابن ابی نجیج نے مجاہد سے لاحتوينج نقل کئے ہیں۔یعنی میں اسے اپنے قبضے میں پورا لے لوں گا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۹۷) اور اس کے معنی لاسْتَوْلِينَ عَلَيْهِم بِالإِغْوَاء وَالْإِضلال۔یعنی میں بڑے بہکاوے اور گمراہی کے ذریعہ ان پر پورے طور پر غالب ہو جاؤں گا۔کہتے ہیں: اختنك الْجَرَادُ الزّرع۔مکڑی کھیتی کو چٹ کر گئی۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۲) یعنی میں بنیادوں تک ہلاک کر دوں گا جیسے مکڑی کھیتوں کو تباہ کر دیتی ہے۔طيرة : حَظہ یعنی اُس کا نصیب فرماتا ہے: وَكُلَ اِنْسَانِ الْزَمُنَهُ طَيرَةُ فِي عُنْقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ كتبا يَلْقَهُ مَنْشُورًا ( بنی اسرائیل: ۱۴) اور ہم نے ہر انسان کی گردن میں اس کے عمل کو باندھ دیا ہے اور ہم قیامت کے دن اس (کے اعمال) کی ایک کتاب نکال کر اس کے سامنے رکھ دیں گے جسے وہ (بالکل) کھلی ہوئی پائے گا۔حضرت ابن عباس سے طَائِرَہ کے معنی عملہ مروی ہیں اور مجاہد سے رِزْقَهُ اور حسن بصری سے طائرہ کے معنی يمنه وسومه یعنی اس کی برکت اور نحوست بیان ہوئے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۲۲) 72 كُلُّ سُلْطَانٍ فِي القُرْآنِ فَهُوَ مُجَةٌ : قرآن مجید میں جہاں کہیں سلطان آیا ہے اس کے معنی دلیل کے ہیں۔یہ قول حضرت ابن عباس کا ہے جو سفیان بن عیینہ نے اپنی تفسیر میں بسند عمرو بن دینار نقل کیا ہے۔انہوں نے عکرمہ سے روایت کی ہے اور حضرت ابن عباس کے حوالے سے ہی فریابی نے یہ بھی کہا ہے: كُلُّ تَسْبِيحِ فِي الْقُرْآنِ فَهُوَ صلاف۔قرآن مجید میں جہاں کہیں تسبیح کا لفظ آیا ہے وہاں اس سے مراد نماز ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۹۷) فرماتا ہے: وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيْهِ سُلْطَنَا فَلَا يُسْرِفُ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا) ( بنی اسرائیل: ۳۴) اور جس جان کو (مارنا) اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے (شرعی ) حق کے سوا قتل نہ کرو۔اور جو شخص مظلوم مارا جائے اس کے وارث کو ہم نے (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔پس (اس کے