صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 507
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۰۷ ۶۵ - کتاب التفسير إسرائيل ليتَبِرُوا مَا عَلُوا تَثْبِيرًا : تَبَّرُوا کے معنی ہیں : دَمرُوا۔یعنی تباہ کر دیا۔اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جس شہر پر بھی وہ غالب آئیں اسے تباہ کر دیں۔فرماتا ہے: اِنْ اَحْسَنتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الأخرة ليسو اوجُوهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيَتَبِرُوا مَا عَلُوا تَثْبِيرًان (بنی اسرائیل: ۸) (سنو!) اگر تم نیکو کار بنو گے تو نیکو کار بن کر اپنی جانوں کو ہی فائدہ پہنچاؤ گے۔اور اگر تم بُرے اعمال کرو گے تو ( بھی ) ان ( یعنی اپنی جانوں) کے لئے (برا کرو گے ) پھر جب دوسری بار والا وعدہ پورا ہونے کا وقت) آگیا، تا کہ وہ ( یعنی تمہارے دشمن) تمہارے معزز لوگوں سے ناپسندیدہ معاملہ کریں اور (اسی طرح) مسجد میں داخل ہوں جس طرح وہ اس میں پہلی بار داخل ہوئے تھے اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے بالکل تباہ ( اور برباد ) کر کے رکھ دیں۔( یہ بات اس وقت پوری ہو گئی جب طیطوس شاہ روم نے فلسطین پر حملہ کیا۔یہ واقعہ صلیب کے واقعہ سے ستر سال بعد کا ہے) حَصِيرًا کے معنی ہیں مخيسًا مخصر : قید خانہ ، گھیر نے والا۔فرماتا ہے: عَلَى رَبُّكُمْ أَنْ يَرْحَمَكُمْ وَإِنْ عُدَاتُم عُدْنَا وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِينَ حَصِیران (بنی اسرائیل: ۹) (اب بھی کچھ بعید نہیں (بلکہ عین ممکن ہے) کہ تمہارا رب تم پر رحم کر دے اور اگر تم (پھر اپنے غلط رویہ کی طرف لوٹے تو ہم بھی (اپنی سزا کی طرف لوٹیں گے اور (یاد رکھو کہ جہنم کو ہم نے کافروں کے لئے قید خانہ بنایا ہے۔خطاً : خاء کی زیر سے ہو تو یہ اسم ہے اور اس کے معنی گناہ کے ہیں اور خاء کی زبر کے ساتھ مصدر ہو گا۔خط غلطی کرنا گناہ کرنا۔خطفت اور اخطات کا ایک ہی مفہوم ہے، لیکن ابو عبیدہ کے نزدیک ان دونوں لفظوں میں فرق ہے۔خَطِيءَ کے معنی أَيْم گناہ کیا اور اخطأ کے معنی چوک گیا۔یعنی بھول کر غلطی ہوگئی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۹۶) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ اِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتَلَهُمْ كَانَ خِطَا كَبِيرًا (بنی اسرائیل: ۳۲) اور تم مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل مت کرو۔ہم ہی انہیں اور تمہیں رزق دیتے ہیں۔انہیں قتل کرنا یقیناً بہت بڑا گناہ ہے۔تخرق : چیر ناپھاڑنا بھی اس کے معنی ہیں اور قطع مسافت کے معنی میں بھی آتا ہے یعنی مسافت طے کرنا، سفر کے آخر تک پہنچ جانا۔اس لفظ سے اس آیت کی تشریح مقصود ہے : وَلَا تَمشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاً ) ( بنی اسرائیل: ۳۸) اور زمین میں اکٹڑ کر نہ چل۔کیونکہ نہ تو تو اس طرح ملک کی آخری حد تک پہنچ سکتا ہے اور نہ تو پہاڑوں کی بلندی ( سر داروں کا بلند درجہ ) پاسکتا ہے۔وَاذْهُمْ نَجْوَى: پوری آیت یہ ہے نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُونَ بِهِ إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ وَإِذْهُمْ نَجْوَى إِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَسْحُورًا ) (بنی اسرائیل: ۴۸) جب وہ (بظاہر ) تیری باتیں سن رہے ہوتے ہیں تو جس غرض سے تیری باتیں سنتے ہیں ہم اس کی حقیقت کو خوب جانتے ہیں اور اس وقت بھی جب وہ باہم سرگوشی میں مشغول ہوتے ہیں جب ظالم (ایک دوسرے سے ) کہتے ہیں کہ تم صرف ایک فریب خوردہ شخص کی ہی پیروی کر رہے ہو۔استفزاز عربی میں جانور کو اس کی پناہ گاہ سے ڈرا دھمکا کر باہر نکالنے کے لئے آتا ہے۔تا کہ جو نہی وہ سامنے