صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 30 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 30

۶۵ - کتاب التفسير / البقرة صحیح البخاری جلد ۱۰ زیادہ علم رکھنے والے ابی بن کعب نہیں۔یہ حدیث حضرت ابو سعید خدری او دیگر صحابہ کی سند سے بھی مروی ہے اور اس کا تعلق صورت تلفظ سے ہے۔جب حضرت زید بن ثابت نے حضرت ابو بکر کے منشاء کے موافق قرآن مجید کو ایک طریق قرآت پر مصحف کی شکل میں محفوظ کیا تو باقی قرآتیں ترک ہوئیں۔حضرت ابی بن کعب کو یہ سب قرآتیں یاد تھیں، جو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے کا موقع ملا۔حضرت عمر نے کہا کہ اگر باقی قرآتیں چھوڑی دی جائیں اور ایک طرز پر اکتفا کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور استدلال معنونہ آیت سے کیا ہے۔ظاہر ہے کہ حضرت عمرؓ کے اس استدلال کا تعلق قرآت سے ہے نہ نسخ کے احکام سے ، اور آپ کا یہ استدلال ضمنی کہلائے گا۔اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ محولہ بالا آیت اپنے اصل سیاق میں بھی قرآت سے متعلق ہے۔پوری آیت یہ ہے: مَا نَسخ مِنْ آيَةٍ أَوْ نَفْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ (البقرة: ١٠) آیت نئی شریعت کے نزول سے متعلق ہے کہ وہ خیر ورحمت کا منبع اور فضل عظیم کا ظہور ہے۔یہودی اور مشرک نہیں پسند کرتے کہ عرب اس کے لئے چنے جائیں۔فرماتا ہے کہ ہمارا طریق عمل یہ ہے کہ جب ہم کوئی (آیت) راہنمائی کی بات منسوخ کرتے ہیں تو اس سے بہتر لاتے ہیں، یا بھلا دیتے ہیں تو ویسی ہی بات لے آتے ہیں۔یہ آیت قاعدہ لف و نشر کے مطابق ہے۔آیت کے دو حصے ہیں۔پہلے حصے میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں، ایک نسخ کی اور دوسری نسیان کی ، اور دوسرے حصہ کا پہلا جملہ نأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا پہلی بات سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا جملہ آؤ مِثْلها دوسری بات سے۔یعنی شریعت کے منسوخ ہونے کی صورت میں اس سے بہتر شریعت لوگوں کی راہنمائی کے لئے لائی جاتی ہے اور نسیان کی صورت میں بھولی ہوئی شے کی تجدید ہوتی ہے اور اسے بحال کر دیا جاتا ہے۔یہ وہ سنت الہی ہے جس کا ذکر مذکورہ بالا آیت میں کیا گیا ہے۔آیت کے آخر میں اپنی صفت قدیر کا ذکر کیا ہے۔فرماتا ہے : اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔کیا تمہیں علم نہیں ہوا کہ اللہ ہر مشیت ( ارادہ) پر قدیر ہے۔یعنی اس نے اندازے مقرر کئے ہوئے ہیں کہ کب اور کن حالات میں تجدید کی ضرورت ہوتی ہے اور کیا حالات نئی شریعت کے متقاضی ہیں۔ان میں سے ہر بات پر جس کا وہ ارادہ کرے کامل قدرت رکھتا ہے۔محولہ بالا آیت اپنے سیاق کلام اور اسلوب بیان میں کتنی واضح ہے۔لیکن غلط تفسیر اور کمزور روایتوں سے کچھ کا کچھ سمجھ لیا گیا اور قرآن میں ناسخ و منسوخ کے جھگڑے کا ایک دروازہ کھول دیا گیا۔اللہ بھلا کرے امام بخاری کا جنہوں نے خاموشی سے اس کا آسان حل اس باب اور اس کی ایک روایت سے کر دیا ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس نسخ کا احکام سے کوئی تعلق نہیں۔جب حضرت عمرؓ نے حضرت ابی بن کعب کو مشورہ دیا کہ مختلف قرآتوں کی ضرورت نہیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے جو قرآت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اسے کیسے چھوڑ دوں تو حضرت عمر نے مذکورہ بالا آیت سے بہت لطیف جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ تو حالات کی تبدیلی سے ایک شریعت تک کو منسوخ کر دیتا ہے اور تم مختلف طرز قرآت نہیں چھوڑ سکتے۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "جو آیت بھی ہم منسوخ کر دیں یا اُسے بھلا دیں، اُس سے بہتر یا اُس جیسی ضرور لے آتے ہیں۔کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہر چیز پر جسے وہ چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔“