صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 506 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 506

صحیح البخاری جلد ۱۰ -۲۵ کتاب التفسير / بني إسرائيل وَتَارَاتٌ۔لَاحْتَنِكَنَّ (بنی اسرائیل: ٦٣) بار۔اس کی جمع تيری اور تارات ہے۔لاحْتَنِكَنَ (بَنِي إِسْرَائِيلَ:٦٣) لَأَسْتَأْصِلَنَّهُمْ يُقَالُ احْتَنَكَ فُلَانٌ مَا کے معنی ہیں: میں ان کو جڑ سے اکھیڑ ڈالوں گا۔عِنْدَ فُلَانِ مِنْ عِلْمٍ اسْتَقْصَاهُ کہتے ہیں: اختنك فلان کہ فلاں شخص کے پاس جو بھی علم ہے فلاں نے اس سے سارے کا سارا طيرة ( بَنِي إِسْرَائِيلَ: ١٤) حَظَّهُ۔قَالَ معلوم کر لیا کچھ نہ چھوڑا۔طہرہ کے معنی ہیں: اس ابْنُ عَبَّاسِ كُلُّ سُلْطَانٍ فِي الْقُرْآنِ کا نصیب۔حضرت ابن عباس نے کہا: قرآن میں فَهُوَ حُجَّةٌ۔وَلِلٌّ مِّنَ الدُّلِ (بہی جہاں جہاں سُلطان کا لفظ آیا ہے اس کے معنی إسرائيل: ۱۱۲) لَمْ يُحَالِفْ أَحَدًا۔ہیں دلیل۔ولی مِّنَ الذُّلِ سے مراد ہے کہ کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی ساتھی نہیں بنتا۔تشریح : وَقَضَيْنَا إلى بنی اسراءیل سے مراد یہ ہے کہ ہم نے ان کو خبر دی کہ وہ آئندہ فساد کریں گے۔اور لفظ القضاء کئی معنوں میں آتا ہے۔جیسے وقضى رَبُّكَ یعنی تیرے رب نے حکم دیا ہے۔اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ) (يونس: ۹۴) اس آیت میں قضى يَقْضِى فیصلہ کرنے کے معنوں میں آیا ہے۔اور یہ لفظ پیدا کرنے کے معنوں میں بھی آیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: فَقَضَهُنَّ سَبْعَ سلوات۔یعنی اس نے انہیں سات آسمانوں کی صورت میں بنایا۔نفيرا: وہ لوگ مراد ہیں جو سپہ سالار کے ساتھ کوچ کریں۔اس سے اس آیت کی شرح مقصود ہے: ثم رددنا لَكُمُ الكَرَةَ عَلَيْهِمْ وَأَمَدَ دَنَكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَجَعَلْنَكُمْ أَكْثَرَ نَفِيران (بنی اسرائیل:۷) ترجمہ : ( اس کے بعد ) پھر ہم نے تمہیں (دشمن پر حملہ کی طاقت عطا کی اور ہم نے مالوں اور بیٹوں کے ذریعہ سے تمہاری مدد کی اور ہم نے تمہیں جتنے کے لحاظ سے بھی (پہلے سے ) زیادہ کر دیا۔میسورا: اس کے معنی ہیں نرم اور آسان فرماتا ہے : وَاِمَا تُعرِضَنَ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ تَرْجُوهَا : فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُورًا (بنی اسرائیل: ۲۹) اور اپنے رب کی کسی عظیم الشان رحمت کے حصول کے لئے جس کی تجھے امید لگی ہوئی ہو اگر تو اُن (رشتہ داروں) سے اعراض کرے (تو اس صورت میں اعراض جائز ہے مگر ) تب بھی اُن سے تلطف والے طریق پر بات کر۔مَنسُورا کے معنی نرم ابو عبیدہ سے مذکور ہیں۔طبری نے ابراہیم نخعی سے اس کے معنی ایسی بات بیان کئے ہیں جس کا تو وعدہ کرے۔اور فَقُل لَّهُمْ قَوْلًا مَيْسُورًا کا مفہوم عِدْهُمْ عِدَةً حَسَنَةٌ مروی ہے۔یعنی ان سے اچھا وعدہ کر۔ابن ابی حاتم نے بھی بحوالہ محمد بن ابی موسیٰ حضرت ابن عباس سے قولاً ميسورا کا یہی مفہوم نقل کیا ہے۔یعنی وعدہ کرنا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۹۶،۴۹۵) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع لقينا تير ارب قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔“