صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 505
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۰۵ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل يُدَمِّرُوا مَا عَلُوا بَنِي إِسْرَائِيلَ: ۸) کی صورت میں بنایا۔ نَفِيرًا۔ یعنی وہ لوگ جو کسی حَصِيرًا (بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٩) مَحْبِسًا کے ساتھ نکلیں۔ وَلِيتَبرُوا کے معنی ہیں: جس مَحْصَرًا۔ حَقَّ وَجَبَ مَيْسُورًا چیز پر وہ غلبہ پائیں اُسے بالکل تباہ کر دیں۔ حَصِيرًا بنِي إِسْرَائِيلَ : (۲۹) لَيْنَا ۔ خطا کے معنی ہیں: قید خانہ، گھیر نے والا۔ حق کے معنی (بَنِي إِسْرَائِيلَ: ۳۲) إِثْمًا وَهُوَ اسْمٌ مِّنْ ہیں: واجب ہو گیا۔ مَيْسُورا کے معنی ہیں: نرم، خَطِئْتَ وَالْخَطَأُ مَفْتُوحٌ مَصْدَرُهُ مِنَ آسان۔ خطا کے معنی ہیں: گناہ، اور یہ اسم ہے خَطِئَت ۔ سے ، اور الخطأ خاء کی زبر کے ساتھ اس الْإِثْمِ خَطِئْتُ بِمَعْنَى أَخْطَأْتُ۔ تَخْرِقَ کا مصدر ہو گا۔ اثم یعنی گناہ کرنے کے مفہوم ( بَنِي إِسْرَائِيلَ : ۳۸) تَقْطَعَ وَإِذْهُمْ میں لفظ خَطِتُ کے معنی ہیں میں نے گناہ کیا۔ نجوى (بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٤٨) مَصْدَرٌ مِنْ تَخْرِقَ کے معنی ہیں: تو (زمین کو) طے کرتا ہے۔ نَّاجَيْتُ فَوَصَفَهُمْ بِهَا وَالْمَعْنَى وَإِذْهُمْ نَجْوَی ( میں نجوی) ناجیت سے مصدر يَتَنْجَوْنَ ۔ رُفَاتًا بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٥٠) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے ان کی صفت بیان کی حُطَامًا ۔ وَاسْتَفْزِزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٦٥) ہے ، یعنی اس حالت میں کہ جب وہ آپس میں اسْتَخِفَّ بِخَيْلِكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٦٥) مشورہ کرتے ہوں۔ دفاتا کے معنی ہیں: ریزہ الْفُرْسَانِ۔ وَالرَّجُلُ الرَّجَالَةُ وَاحِدُهَا ريزه وَاسْتَغْزِزُ کے معنی ہیں: اُکسا دے، جھنجھلا رَاجِلٌ مِثْلُ صَاحِبِ وَصَحْبِ وَتَاجِرٍ دے۔ بِخَيْلِكَ ۔ یعنی اپنے سواروں سمیت، اور الرجل کے معنی ہیں: پیادے، اس کی مفرد راجل وَتَجْرِ۔ حَاصِبًا (بَنِي إِسْرَائِيلَ: ٦٩) الرِّيحُ الْعَاصِفُ، وَالْحَاصِبُ أَيْضًا مَا ہے، جیسے صَاحِب کی جمع صحت اور تاجر کی تَجْرٌ تَرْمِي بِهِ الرِّيحُ وَمِنْهُ حَصَبُ جَهَنَّمَ ہے۔ حَاصِبا کے معنی ہیں: جھکڑ، آندھی اور الحاصب ایسی چیزوں کو بھی کہتے ہیں جنہیں (الأنبياء: ۹۹) يُرْمَى بِهِ فِي جَهَنَّمَ وَهُوَ آندھی اُڑا کر پھینکے۔ اور اس سے حَصَبُ جَهَنَّمَ حَصَبُهَا وَيُقَالُ حَصَبَ فِي الْأَرْضِ ہے۔ یعنی جو جہنم میں پھینکا جائے گا وہی اس کا ذَهَبَ، وَالْحَصَبُ مُشْتَقٌ مِنَ حَصَبُ ہے۔ اور کہا جاتا ہے : حَصَبَ فِي الْأَرْضِ۔ الْحَصْبَاءِ وَالْحِجَارَةِ تَارَةً یعنی وہ زمین میں دھنس گیا، اور حصب سنگریزوں (بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٧٠) مَرَّةً وَجَمَاعَتُهُ تِيَرَةٌ کے معانی میں بھی ہے۔ تارہ کے معنی ہیں: ایک