صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 504 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 504

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۰۴ ۶۵ - کتاب التفسير / بني إسرائيل عرصہ سے تعلق رکھتی ہے یعنی بلحاظ شان نزول کے۔ اندازاً یہ زمانہ چار اور آٹھ سال کے درمیان کا ہے۔ یعنی ہجرت سے دو سال پہلے کا۔ اس وجہ سے حضرت ابن مسعودؓ نے ان سورتوں کو تلادی کہا ہے۔ فَسَيُنْغِضُونَ کے معنوں میں اختلاف ہوا ہے۔ ایک مفہوم تو وہ ہے جو اس روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، یعنی مذاق میں سر ہلانا نغض کے معنی ہیں تحرک ۔ یہ فعل لازم ہے اور اس سے فعل متعدی أَنْغَضَ اور فعل مضارع يُنغِضُ ہے۔ دوسرا مفہوم تعجب میں سر ہلانے کا ہے۔ موت کے بعد زندگی کو نا ممکن سمجھتے ہوئے وہ عنقریب سر ہلائیں گے اور تعجب کریں گے کہ کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔ پوری آیت یہ ہے : و قَالُوا وَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا وَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا قُلْ كُونُوا حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا أَوْ خَلْقًا مِمَّا يَكْبُرُ فِي صُدُورِكُمْ فَسَيَقُولُونَ مَنْ يُعِيدُنَا قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ متى هُوَ قُلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ قَرِيبًا (بنی اسرائیل: ۵۰ تا ۵۲) اور انہوں نے (یہ بھی) کہا ہے: (کیا) جب ہم (مرکز) ہڈیاں ہو جائیں گے اور کچھ عرصہ کے بعد گل کر ہڈیوں کا (بھی) چور ابن جائیں گے (تو ہمیں از سر نو زندہ کیا جائے گا اور ) کیا واقعی ہمیں ایک نئی مخلوق کی صورت میں اٹھایا جائے گا ؟ تو (انہیں) کہہ (کہ) تم (خواہ ) پتھر بن جاؤ یا لوہا، یا کوئی اور ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں ان سے بھی سخت نظر آتی ہو (تب بھی تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا)۔ (یہ سن کر ) وہ ضرور کہیں گے (کہ) کون ہمیں دوبارہ زندہ کر کے وجود میں ) لائے گا۔ تو (انہیں) کہہ (کہ) وہی (خدا) جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اس پر وہ لازما تعجب سے تمہاری طرف دیکھتے ہوئے) سر ہلائیں گے اور کہیں گے (کہ) یہ (زندہ کیے جانے کا معاملہ ) کب ہو گا؟ ( جب وہ ایسا کہیں تو) تو (ان سے) کہہ (کہ) بالکل ممکن ہے کہ وہ وقت آب ) قریب (آچکا) ہو۔ باب ۲ وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ ( بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٥) وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ سے مراد یہ ہے کہ أَخْبَرْنَاهُمْ أَنَّهُمْ سَيُفْسِدُونَ، وَالْقَضَاءُ ہم نے ان کو خبر دی کہ وہ آئندہ فساد کریں گے۔ عَلَى وُجُوهِ وَقَضَى رَبُّكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٢٤) اور لفظ الْقَضَاءُ کئی معنوں میں آتا ہے۔ وقضی ربک یعنی تیرے رب نے حکم دیا ہے۔ اور یہ لفظ أَمَرَ رَبُّكَ، وَمِنْهُ الْحُكْمُ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بينهم (يونس: ٩٤) وَمِنْهُ الْخَلْقُ يَقْضِي بَيْنَهُمْ - یعنی تیرا رب ان کے درمیان فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَمواتِ (لحم السجدة: ١٣) فیصلہ کر دے گا۔ اور یہ لفظ پیدا کرنے کے معنوں خَلَقَهُنَّ نَفِيرًا بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٧) مَنْ میں بھی آیا ہے۔ (جیسا کہ فرمایا:) فَقَضَهُنَّ يَنْفِرُ مَعَهُ۔ وَلِيُتَبَّرُوا بَنِي إِسْرَائِيلَ : (۸) سَبْعَ سَنَاتٍ - یعنی اس نے انہیں سات آسمانوں فیصلہ کرنے کے معنوں میں بھی آیا ہے: اِنَّ رَبَّكَ