صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 504
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۰۴ -۲۵ - كتاب التفسير / بني إسرائيل ج عرصہ سے تعلق رکھتی ہے یعنی بلحاظ شان نزول کے۔انداز آیہ زمانہ چار اور آٹھ سال کے درمیان کا ہے۔یعنی ہجرت سے دو سال پہلے کا۔اس وجہ سے حضرت ابن مسعود نے ان سورتوں کو تلا دینی کہا ہے۔فَسَيُنْغِضُونَ کے معنوں میں اختلاف ہوا ہے۔ایک مفہوم تو وہ ہے جو اس روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، یعنی مذاق میں سر ہلانا۔تعض کے معنی ہیں تحرك۔یہ فعل لازم ہے اور اس سے فعل متعدی انعض اور فعل مضارع يُقغِضُ ہے۔دوسرا مفہوم تعجب میں سر ہلانے کا ہے۔موت کے بعد زندگی کو نا ممکن سمجھتے ہوئے وہ عنقریب سر ہلائیں گے اور تعجب کریں گے کہ کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔پوری آیت یہ ہے: وَ قَالُوا وَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَ رُفَاتًا وَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا قُلْ كُونُوا حِجَارَةً أَوْ حَدِيدًا أَوْ خَلْقًا مِّمَّا يكبر في صُدُورِكُمْ فَسَيَقُولُونَ مَنْ يُعِيدُنَا قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ وَيَقُولُونَ متى هُوَ قُلْ عَسَى أَن يَكُونَ قَرِيبًا ( بنی اسرائیل: ۵۰ تا ۵۲) اور انہوں نے (یہ بھی) کہا ہے: (کیا) جب ہم (مرکز) ہڈیاں ہو جائیں گے اور کچھ عرصہ کے بعد گل کر ہڈیوں کا (بھی) چورا بن جائیں گے (تو ہمیں از سر نو زندہ کیا جائے گا اور ) کیا واقعی ہمیں ایک نئی مخلوق کی صورت میں اٹھایا جائے گا؟ تو (انہیں) کہہ (کہ) تم (خواہ) پتھر بن جاؤ یا لوہا، یا کوئی اور ایسی مخلوق جو تمہارے دلوں میں ان سے بھی سخت نظر آتی ہو تب بھی تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا)۔(یہ سن کر) وہ ضرور کہیں گے (کہ) کون ہمیں دوبارہ زندہ کر کے وجود میں ) لائے گا۔تو (انہیں) کہہ (کہ) وہی (خدا) جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔اس پر وہ لاز کا تعجب سے تمہاری طرف دیکھتے ہوئے) سر ہلائیں گے اور کہیں گے (کہ) یہ (زندہ کیے جانے کا معاملہ ) کب ہو گا؟ ( جب وہ ایسا کہیں تو ) تو (ان سے) کہہ (کہ) بالکل ممکن ہے کہ وہ ( وقت آب ) قریب (آچکا) ہو۔باب ۲ وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَاءِيلَ (بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٥) وَقَضَيْنَا إِلى بَنِي إِسْرَاءِیل سے مراد یہ ہے کہ أَخْبَرْنَاهُمْ أَنَّهُمْ سَيُفْسِدُونَ، وَالْقَضَاءُ ہم نے ان کو خبر دی کہ وہ آئندہ فساد کریں گے۔عَلَى وُجُوهِ وَقَضَى رَبُّكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٢٤) اور لفظ الْقَضَاءُ کئی معنوں میں آتا ہے۔وقضی أَمَرَ رَبُّكَ، وَمِنْهُ الْحُكْمُ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى رتبك یعنی تیرے رب نے حکم دیا ہے۔اور یہ لفظ فیصلہ کرنے کے معنوں میں بھی آیا ہے: اِنَّ رَبَّكَ بينهم (یونس: ٩٤) وَمِنْهُ الْخَلْقُ يَقْضِي بَيْنَهُمُ۔یعنی تیرا رب ان کے درمیان فَقَضْهُنَّ سَبْعَ سَمواتِ ( حم السجدة: ۱۳) فیصلہ کر دے گا۔اور یہ لفظ پیدا کرنے کے معنوں خَلَقَهُنَّ نَفِيرًا ( بَنِي إِسْرَائِيلَ : ٧) مَنْ میں بھی آیا ہے۔(جیسا کہ فرمایا:) فَقَضْهُنَّ يَنْفِرُ مَعَهُ۔وَلِيُتَبِرُوا بَنِي إِسْرَائِيلَ : ( سَبْعَ سَلوَاتٍ - یعنی اس نے انہیں سات آسمانوں ( ٨)۔