صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 502 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 502

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۰۲ ۶۵ - كتاب التفسير / النحل اسی مسئلے کے اختلاف کا نتیجہ اور یہی اختلاف عقیدہ انسان کی بو الہوسی اور بولہبی کی شکل میں ساری دنیا کے لیے وبال جان و مال اور اخلاق کے لئے تباہ کن ہو رہا ہے۔آنحضرت ملا لی ایم کی مذکورہ بالا دعا الہی تجلی کے تحت آپ سے صادر ہوئی ہے۔چنانچہ قرآن مجید کی آخری سورتوں میں فتنہ حیاة و مماہ سے تعلق رکھنے والے فتنہ دجال کا بھی ذکر ہے اور اس سے پناہ مانگنے کی ہدایت ہے۔جیسا کہ اس سے قبل ذکر کیا جاچکا ہے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے اپنی امت کو یہ استعاذہ کی دعا یو نہی بلا وجہ نہیں سکھائی۔علامہ عینی نے جو ہرٹی کے حوالے سے رَكُل كُلُّ شَيْءٍ رَدِيَہ نقل کئے ہیں۔یعنی ہر شے کا روی حصہ ، اور ارذَلِ الْعُمر کے معنی پیر فرتوت کے لئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ نام کی دعا میں بخل سے پناہ جو مانگی گئی ہے اس سے مراد مالی حقوق کی کوتاہی سے بچنا ہے۔اسی طرح آپ نے یغنی یعنی دولت مندی کے فتنہ سے بھی پناہ مانگی ہے۔کیونکہ دولت کے ساتھ بے جا اسراف اور معصیت کے کاموں میں انسان خرچ کرنے پر دلیر ہو جاتا ہے۔کسل کا تعلق بھلے کاموں میں عدم رغبت سے ہے۔باوجود قدرت و ہمت ہونے کے پھر نیکی نہ کرنا۔ابو نجیب سہروردی نے فِتْنَةِ الْمَحْيَا سے ابتلاء اور مصیبتوں میں گرفتار ہو نا مراد لی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۱۸)