صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 501 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 501

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۵۰۱ ۶۵ - كتاب التفسير / النحل بَاب ١: وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ (النحل: ۷۱) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور تم میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہایت نکمی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں ٤٧٠٧ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۴۷۰۷ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى أَبُو عَبْدِ اللهِ که بارون بن موسیٰ ابو عبد اللہ اعور نے ہمیں الْأَعْوَرُ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ بتایا۔انہوں نے شعیب (بن حجاب) سے، مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ شعیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو سے روایت کی۔(انہوں نے کہا:) رسول اللہ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَأَرْذَلِ عَلى اللوم یہ دعا کیا کرتے تھے : میں تیری پناہ لیتا الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ ہوں بخل سے، سستی سے، نکمی عمر سے، عذاب وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ۔قبر سے، فتنہ دجال سے نیز زندگی اور موت کے أطرافة : ٢٨٢٣ ، ٦٣٦٧، ٦٣٦٩، ٦٣٧١- فتنے سے۔يح : وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى اَرْذَلِ الْعُمرِ : اس باب کے تحت جو حدیث نبوی (نمبر ۷ ۴۷۰) مروی ہے ، وہ مشہور ہے۔اس میں سات باتوں سے محفوظ رہنے کی دعا ہے۔ان میں سے ایک دعا ارذَلِ الْعُمُرِ۔سے متعلق ہے۔ارذل کے معنی ہیں روی، ناکارہ۔یعنی ایسی عمر جس میں نہ صرف انسان کا وجود بے فائدہ ہو جاتا ہے بلکہ اس کا جینا اس کے اور اس کے عزیز و اقرباء کے لئے بھی ایک بہت بڑے دکھ کا موجب ہوتا ہے۔اس کے علاوہ عذاب قبر، فتنہ دجال اور زندگی اور موت کے فتنہ سے بھی آپ پناہ مانگا کرتے تھے۔عذاب قبر کے متعلق ذکر کتاب الجنائز باب ۸۶، ۸۷ میں گذر چکا ہے اور فتنہ دجال کا ذکر کتاب احادیث الانبیاء باب ۳ میں دیکھا جا سکتا ہے۔فتنہ محيا و تمناؤ کیا ہے؟ زندگی اور موت کا فتنہ ہر فرد اور ہر قوم کے لئے الگ اور بے شمار صورتیں رکھتا ہے۔اس لحاظ سے یہ دعا ایک جامع دعا ہے۔لیکن فتنہ دجال سے اس کا کیا تعلق ؟ ان تینوں باتوں کو اکٹھارکھا گیا ہے۔فتنہ دجال کے تعلق میں فتنہ محیا و ممات کے بارے میں غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی اور موت کا عقیدہ اور فتنہ دجال آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور یہ عقیدہ بنی آدم کے لئے اس صورت و شکل میں مصائب کا باعث بن گیا ہے۔کسی اور انسان کی زندگی اور موت مصیبت کا باعث نہیں بنی۔آخر صلیبی جنگیں کیا ہیں؟