صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 500 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 500

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۵۰۰ ۶۵ - كتاب التفسير / النخل شعبی نے آیت کے مذکورہ بالا مفہوم کی صحت سے انکار کیا ہے ان کا قول ہے کہ نشہ آور شراب کمر کہلاتی ہے جو عقل و شعور پر چھا جاتی ہے اور انسان کو مدہوش کر دیتی ہے، لیکن السکر سے مراد متقی اور انگور کا نقوع ( آب جوش) ہے جو پینے میں مفید ہے اور آیت میں اس کا ذکر ہے نہ کہ نشہ آور شراب کا۔طبری نے بھی اس آیت کا یہی مفہوم بتایا ہے اور شیعی کی تائید کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ (۴۹) غرض اس آیت کی لفظی شرح سے اس اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ صَدَقَةٌ : سفیان بن عیینہ نے صدقہ سے روایت نقل کی ہے کہ سدی سے منقول ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک عورت خرقاء نامی تھی۔جس کی یہ عادت تھی کہ وہ صبح سے دوپہر تک اپنی سہیلیوں کو ساتھ لئے چرخہ کا تی رہتی تھی اور دو پہر کے بعد اپنا کا تاسوت توڑ پھوڑ دیتی۔خَز قَاءُ - أَخْرَقُی کا مونث ہے، جس کے معنی ہیں کم عقل۔مقاتل کی تفسیر میں اس کا نام ریطہ بتایا گیا ہے جو عمرو بن کعب بن سعد بن زید مناة) کی بیٹی تھی۔علامہ بلاذری نے بتایا ہے کہ وہ اسد بن عبد العزیٰ بن قصی کی ماں تھی۔طبری نے بھی ابن جریج کے حوالے سے صدقہ کی طرح اسی مفہوم کی ایک روایت نقل کی ہے۔لیکن قطع نظر اس بحث سے کہ یہ روایتیں کہاں تک صحیح ہیں قتادہ کا قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت مذکورہ بالا میں عہد توڑنے والوں کی مثال بیان کی ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۹۲) بعض شارحین نے صدقہ والی روایت اس بنا پر رو کی ہے کہ امام بخاری کے شیوخ میں سے صدقہ بن فضل مروزی نے سدی کا زمانہ نہیں پایا اور نہ سدی کے ملاقاتیوں سے ان کا ملنا ثابت ہے۔البتہ تاریخ بخاری میں صدقہ ابو البذیل کا نام بھی آتا ہے، جن کا سدی سے روایت کرنا مذکور ہے اور ابن حبان نے بھی انہیں ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ایک صدقہ بن ابی عمران بھی ہیں جن سے سفیان بن عیینہ نے روایت کی ہے۔ابن ابی حاتم نے بھی اپنے باپ سے ایک صدقہ نامی راوی کا ذکر کیا ہے لیکن وہ عبد اللہ بن کثیر کے بیٹے ہیں جو مجاہد کے رفیق تھے۔اور یہ اس صدقہ سے الگ ہیں جو ابو عمران کے بیٹے تھے اور یہ بھی بخاری کے ان راویوں میں سے ہیں جن سے ضمناً بطور حوالہ مدد لی گئی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۹۲) وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ الْأُمَّةُ مُعَلِّمُ الْخَيْرِ وَالْقَانِتُ الْمُطِيعُ: أُمَّةٌ کے معنی بھلائی سکھانے والا اور قانت سے مراد فرمانبردار۔أُمَّةٌ اور قانت کے یہ معانی فریابی نے بحوالہ شعبی اور بواسطہ مسروق حضرت ابن مسعودؓ سے نقل کئے ہیں۔فریائی کے علاوہ عبد الرزاق، ابو عبید اللہ اور حاکم نے بھی اس سند سے یہ معنی نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۹۲) یہ الفاظ ان معنوں میں اس آیت میں آئے ہیں، فرماتا ہے: اِنَّ ابراھیم كَانَ أُمَّةً قَانِنَّا لِلَّهِ حَنِيفًا ۖ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ) (النحل: ۱۲۱) ابراہیم یقیناً ہر خیر کا جامع تھا، اللہ کے لئے تذلل اختیار کرنے والا اور کامل فرمانبردار اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا۔قانتا حنیفا کے معنی ہیں غایت درجہ فرمانبردار، جس میں غیر اللہ کی محبت کا شائبہ تک نہ ہو۔