صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 499
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۹۹ ۶۵ - كتاب التفسير / النحل میں زیادہ طاقتور نہ ہو جائے۔ اللہ تو صرف اس وقت تم کو ان (احکام) کے ذریعہ سے آزما رہا ہے اور قیامت کے دن تم پر ان امور کی ساری حقیقت ضرور کھول دے گا جن میں تم اختلاف رکھتے تھے۔ علامہ عینی نے بھی زمخشری کے حوالے سے انکانا کا مفہوم نقض معاہدہ ہی مراد لیا ہے۔ اس تعلق میں ابن اثیر کا قول نقل کیا ہے : النَّكْتُ نَقْضُ الْعَهْدِ - یعنی النکت کے معنی ہیں عہد توڑ دینا۔ فعل نگت سے اسم نکٹ ہے، جس کے معنی ہیں بوسیدہ دھاگہ اون کا ہو یا بالوں کا۔ ایسا دھاگہ جلدی ٹوٹ جاتا ہے بار بار بٹا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحه ۱۷) وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ حَفَدَةً مِنْ وَلَدِ الرَّجُلِ : مرد کی ذریت سے جو اولاد ہو یعنی پوتے پوتیاں۔ طبری نے حضرت ابن عباس سے موصولاً نقل کیا ہے کہ لفظ حَفَدَةً بیٹے بیٹیوں اور پوتوں پوتیوں کو شامل رکھتا ہے۔ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اسی طرح مرد کی بیوی سے جو اولاد ہو وہ بھی حفدة میں شامل ہے اور ایک تیسرا قول یہ بھی ہے کہ حَفَدَةٌ سے مراد اصہار ہیں، یعنی دامادی کے تعلق میں جو رشتے دار ہوں۔ بیوی کے رشتہ داروں کی اولاد بھی حَفَدَةٌ کہلاتی ہے۔ ایک چو تھا قول بھی مروی ہے جو طبری نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: من أَعَانَكَ فَقَدْ حَفَدَكَ جس نے تیری مدد کی وہ تیر اسہارا بنا۔ ان معنوں کی رو سے خدام بھی حقدہ میں شامل ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۹۱) لفظ حَفَدَةٌ اس آیت میں آیا ہے: وَاللهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَتِ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَ بِنِعْمَتِ اللهِ هُمْ يَكْفُرُونَ (النحل : ۷۳) اور اللہ نے تمہارے لئے تم میں سے ہی ( تمہارے جیسے نفس رکھنے والی بیویاں بنائی ہیں اور اس نے تمہاری بیویوں میں سے بیٹے بیٹیاں اور پوتے پوتیاں پیدا کئے ہیں اور تمہیں پاکیزہ اور خوشگوار رزق عطا کیا ہے تو پھر کیا وہ باطل پر ایمان لائیں گے اور اللہ کی نعمت کے ناشکر گزار ہوں گے۔ الشكر : پھل میں سے جو حرام کیا گیا ہے وہ سکڑ ہے اور اس کے مقابل کا رزق حلال رزقی حسن کہلاتا ہے ، اور اس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ فرماتا ہے: وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَ رِزْقًا حَسَنًا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (النحل: ۲۸) اور کھجور کے پھلوں اور انگوروں سے تم شراب بھی بناتے ہو اور اچھا رزق بھی حاصل کرتے ہو۔ جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لئے اس میں ایک بہت بڑا نشان ہے۔ طبری نے حضرت ابن عباس سے متعد د سندوں کے ساتھ سکر کا یہ مفہوم نقل کیا ہے۔ حاکم نے بھی ان کی اس روایت کا ذکر کیا ہے اور سعید بن جبیر کے حوالے سے لکھا ہے : الرِّزْقُ الْحَسَنُ الْحَلَالُ وَالسَّكَرُ الْحَرَام ۔ مجاہد سے بھی یہی مروی ہے اور قتادہ کا قول ہے کہ الشکر جس کا ذکر آیت میں ہے اس سے ایرانیوں کی مشہور و معروف شراب مراد ہے (جو انگوروں سے تیار کی جاتی تھی۔ کھجور سے بھی نشہ آور شراب تیار کی جاتی تھی اور منتقی سے بھی۔ ہر نشہ آور شے بطور غذا استعمال کرنا شریعت اسلامیہ میں ممنوع ہے۔