صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 498
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۹۸ ۶۵ - كتاب التفسير / النحل صیغہ جمع ہونے کے مؤنث ہے، جس کا واحد نعم ہے اور اس لفظ کے اعتبار سے مذکر ۔ چنانچہ فراء نحوی ادیب نے لفظ نعم کو تذکیر پر محمول کیا ہے، جس کی جمع نعمان ہے۔ جیسے عمل و محملان۔ ان کے نزدیک لفظ نعم کو مؤنث سمجھنا صحیح نہیں۔ دراصل عرب مختلف اعتبارات سے تذکیر و تانیث اور افراد و جمع میں وسعت دیکھتے ہیں۔ کبھی کسی چیز کی اطلاع ایک صیغہ سے دیتے ہیں پھر اس چیز کا سبب ملحوظ رکھ کر دوسرا صیغہ اس کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ امام ابن حجر نے اس کی مثال میں مندرجہ ذیل شعر نقل کیا ہے : قَبَائِلُنَا سَبْعٌ وَأَنْتُمْ ثَلَاثَةٌ وَالسَّبْعُ أَوْلَى مِنْ ثَلَاثٍ وَأَطْيَبُ یعنی ہمارے قبیلے سات ہیں اور تم صرف تین قبیلے ہو اور سات قبیلے یقیناً تین سے بہتر ہیں اور زیادہ اچھے ہیں۔ محوی قاعدے کی رو سے چاہیے تھا ثَلاثُ قَبَائِل لیکن یہاں أَحْيَاء ملحوظ رکھتے ہوئے اسے مذکر کی جمع ہونے کی وجہ ے ثَلاثَةٌ کہا ہے۔ أَحْيَاء جمع ہے حتی کی، یعنی قبیلہ ۔ آخری حصہ شعر میں پھر عدد مذکر ہے یعنی ثلاث۔ اس سے مراد ہے ثَلَاثُ قَبَائِل۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۹۰) لفظ الانعام کے حوالے سے مذکورہ بالا آیت مراد ہے جس کا حوالہ مع ترجمہ نقل کیا گیا ہے۔ اکنانا جمع ہے کیوں کی بمعنی پناہ گاہ۔ جیسے حمل سے احتمال : بوجھ۔ اکتان سے مراد غاریں ہیں، جن میں بوجہ بارش وغیرہ پناہ لی جاتی تھی۔ فرماتا ہے : وَاللهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلْلًا وَجَعَلَ لَكُمْ لَكُمْ مِنَ الْجِبَالِ اكْنَانَا وَ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُمُ بَأْسَكُمْ كَذلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ (النحل: ۸۲) اور اللہ نے جو کچھ پیدا کیا ہے اُس میں اُس نے تمہارے لئے کئی سایہ دینے والی چیزیں بنائی ہیں (جن کے نیچے تم آرام پاتے ہو) اور پہاڑوں میں (بھی) تمہارے لیے پناہ کی جگہیں بنائی ہیں اور نیز اُس نے تمہارے لیے کئی قسم کی قمیصیں بنائی ہیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور بعض قمیصیں (یعنی زر ہیں) ایسی ہیں جو تمہیں تمہاری (آپس کی) جنگ ( کی سختی) سے بچاتی ہیں۔ اسی طرح وہ تم پر اپنے (روحانی) انعام کو (بھی) پورا کرتا ہے تاکہ تم (اس کے ) کامل فرمانبردار بنو۔ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ بَأْسَكُمْ : ایسی قمیصیں جو تمہیں سردی سے بچاتی ہیں اور ایسی قمیصیں جو تمہیں جنگ کے خطرے سے محفوظ رکھتی ہیں، یعنی زر ہیں۔ یہ آیت مع ترجمہ ابھی گزر چکی ہے۔ دخلا : ہر نادرست اور ناجائز بات۔ یہی معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں اور قتادہ نے اس کے معنی خیانت کے کئے ہیں اور یہ بھی کہا ہے کہ بیرونی شے دخل کہلاتی ہے جس کا باطن سے تعلق نہ ہو۔ وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا تَتَّخِذُونَ أَيْمَانَكُمْ دَخَلَا بَيْنَكُمْ أَنْ تَكُوْنَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَى مِنْ أُمَّةٍ إِنَّمَا يَبْلُوكُمُ اللَّهُ بِهِ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُونَ ) (النحل : ۹۳) اور اس عورت کی طرح مت بنو جس نے اپنے کاتے ہوئے سوت کو اس کے مضبوط ہو جانے کے بعد کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ اسی طرح کہ تم اپنی قسموں کو فریب کے ذریعہ آپس میں رسوخ بڑھانے کا ذریعہ بنالو، اس خوف سے کہ کوئی قوم کسی دوسری قوم کے مقابلہ