صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 497
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۹۷ ۶۵ - كتاب التفسير / النحل بشق: یعنی مشقت سے ، مشقت کی وجہ سے، تکلیف برداشت کر کے۔ پوری آیت یہ ہے: وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَّمْ تَكُونُوا بُلِغِيهِ إِلَّا بِشِقَ الْأَنْفُسِ إِنَّ رَبَّكُمُ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (النحل: ۸) اور وہ تمہارے بوجھ اٹھا کر ایسے شہر تک بھی لے جاتے ہیں جہاں تم خود پہنچنے کے نہیں ، سوا اس کے کہ جانوں کو تکلیف میں ڈالو۔ یقینا تمہارا رب بہت ہی مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ آیت لَمْ تَكُونُوا بِلِغِيهِ إِلَّا بِشِقَ الْأَنْفُسِ کے متعلق ابو عبیدہ کا قول ہے کہ اس فقرے سے یہ معنی ہیں کہ اگر سواری کے جانور مہیانہ کئے جاتے تو تم منزل مقصود تک نہ پہنچ سکتے ، بجز اس کے کہ تمہاری جانیں تکلیف برداشت کرتیں۔ قتادہ نے بشق الأنفس کا مترادف بِجَهْدِ الْأَنْفُسِس قرار دیا ہے ، یعنی جان جوکھوں میں ڈال کر۔ اس آیت کی قراءت سے متعلق بھی ایک اختلاف ہے۔ جمہور کی قراءت شتی شین کی زیر سے ہے۔ ابو جعفر بن قعقاع نے شق شین کی زبر سے پڑھا ہے۔ ابو عبیدہ کے نزدیک دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔ انہوں نے اس رائے کی تائید میں یہ شعر نقل کیا ہے: وَذُو إِبِلٍ تَسْعَى وَيَحْبِسُهَا لَهُ أَخُو نَصَبٍ مِنْ شِهَا وَذَرُوبٍ یعنی تیز روسدھائے ہوئے گھوڑے لچکدار لمبے نیزے تانے ہوئے دوڑے آ رہے ہیں اور ایک علم بردار عالی مقصد اور علو ہمت و عزم انہیں اس کی خاطر روکتا ہے۔ مبادہ وہ انہیں چھلنی کر دیں۔ ذوب یعنی ذو ذوب۔ مراد ہے پختہ کار، دشمن کو بگھارنے والا، اسے تہس نہس کرنے والا ہے۔ اثرم ادیب جو ابو عبیدہ کے ہم عصر ہیں اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ لفظ شق اور شق دونوں طرح سنا ہے۔ فراء ادیب کے نزدیک شق کے مفہوم میں یہ پایا جاتا ہے کہ جانیں پگھل کر آدھی رہ گئیں اور شقِ الْأَنْفُس کے مفہوم میں مشقت اور انتہائی تکلیف کے معنی پائے جاتے ہیں۔ مفسرین پہلے مفہوم کے مؤید ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۹۰، ۴۹۱) عَلَى تَخَوفِ : تَنقُص - آہستہ آہستہ گھٹا کر یا کمزور کر کے۔ فرماتا ہے : اَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوْفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمُ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ ) (النحل: ۴۸) یا وہ انہیں آہستہ آہستہ گھٹا کر ہلاک کر دے۔ کیونکہ تمہارا رب یقیناً (مومنوں پر ) بہت (ہی) شفقت کرنے والا (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً : اس سے یہ آیت مراد ہے : وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ قَرْثٍ وَدَمٍ تَبَنَّا خَالِصًا سَابِعًا لِلشَّرِبِينَ (النحل: ۶۷) اور تمہارے لئے چارپایوں میں (بھی) یقیناً نصیحت حاصل کرنے کا ذریعہ (موجود) ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ) جو کچھ اُن کے پیٹوں میں (گند وغیرہ بھرا) ہوتا ہے اس میں سے یعنی گوبر اور خون کے درمیان سے ہم تمہیں پینے کے لیے (پاک اور ) صاف دودھ (مہیا کر) دیتے ہیں۔ جو پینے والوں کے لیے خوشگوار (اور) گلے سے آسانی سے اُترنے والا (ہوتا) ہے۔ لفظ عِبرة تاء تانیث کی وجہ سے مؤنث ہے، لیکن اس شے کے اعتبار سے جس سے نصیحت حاصل ہو یہ لفظ مذکر ہے۔ اسی طرح لفظ الأنعام بلحاظ