صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 29
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۹ ۶۵ کتاب التفسير / البقرة بَاب ٧ : قَوْلُهُ مَا نَنْسَحْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا (البقرة: ١٠٧) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ہم جو بھی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اس کو بھلا دیتے ہیں ٤٤٨١ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي ۴۴۸۱: عمرو بن علی نے ہمیں بتایا۔یحی ( بن سعید حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَبِيْبِ قطان نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حبیب ( بن ابی ثابت ) عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ سے، حبیب نے سعید بن جبیر سے، سعید نے قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْرَؤُنَا حضرت ابن عباس سے روایت کی۔انہوں نے أُبَيٌّ وَأَقْصَانَا عَلِيٌّ وَإِنَّا لَنَدَعُ مِنْ کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے : ہم میں سب قَوْلِ أَبِي وَذَاكَ أَنَّ أَبَيًّا يَقُوْلُ لَا أَدَعُ سے بہتر قرآن پڑھنے والے ائی ( بن کعب ) ہیں شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَّسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ اور ہم میں سے بہتر فیصلہ کرنے والے علی نہیں اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى مَا ہم ان کی ایک بات چھوڑتے ہیں اور وہ یہ کہ آئی کہتے ہیں کہ میں کوئی بھی (قرآت) نہیں چھوڑوں گا جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ہم جو بھی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اُس کو بھلا دیتے ہیں۔نَنْسَحْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نَنْسَأَهَا۔۔طرفه: ٥٠٠٥ و تشريح : مَا نَسَحْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا: یہ باب مشہور مسئلہ ناسخ ومنسوخ کے تعلق میں قائم کیا گیا ہے۔ناسخ و منسوخ کے متعلق بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بعض احکام نازل ہوئے اور پھر وہ مع متعلقہ آیات منسوخ ہوئے۔اس بارے میں کچھ روایتیں بھی ہیں جو غیر مستند ہونے کی وجہ سے امام بخاری نے قبول نہیں کیں۔صرف ایک روایت (نمبر ۴۴۸۱) ان کے نزدیک درست ہے، جو معنعن ہے اور لفظی قرآت سے متعلق ہے۔احکام کی منسوخی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔اقرء نا أبى : ہم میں سے سب سے زیادہ عمدہ قاری حضرت ابی بن کعب ہیں۔امام ترندی نے یہ روایت حضرت انس سے مرفوع نقل کی ہے، جس کے یہ الفاظ ہیں۔ارحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ الله أُبي بن كفپہ میری اُمت سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابو بکر ہیں۔اور ان میں سے کتاب اللہ کا 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں ”مَا نَحْ مِنْ آيَةٍ أَو نُنَسِهَا" کے الفاظ ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۲۰۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔(سنن الترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب معاذ بن جبل و زید بن ثابت۔۔۔)