صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 496 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 496

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۹۶ ۶۵ - كتاب التفسير / النحل شر انگیز فتنہ اتنا خطر ناک ہولناک اور تباہ کن ہو گا کہ اس سے کہیں پناہ کی جگہ نہیں ملے گی سوا اللہ تعالیٰ کی ذات یگانہ کے جس کی صفت سورۃ الاخلاص میں الصَّمَدُ بتائی گئی ہے۔ الصَّمَدُ کے معنی بھی آخری پناہ کے ہیں ۔ قُلْ هُوَ اللهُ احد کا مفہوم یہ ہے کہ ابولہب کا فتنہ اتنا شدید ہے کہ تو بنی نوع انسان سے کہہ دے کہ وہی اللہ واحد یگانہ تنہا ہے اور الصمد ہی اس کے شر سے آخری جائے پناہ ہو گا۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تُسِيمُونَ : تَرْعَوْنَ - ریوڑ چرنے کے لئے چھوڑتے ہو۔ یہ لفظ اس آیت میں آیا ہے: هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَكُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَ مِنْهُ شَجَرٌ فِيْهِ تُسِيمُونَ (النحل: 11) وہی ہے جس نے بادلوں سے پانی اُتارا۔ اُسی میں سے پینے کا پانی تمہارے لئے (مہیا ہوتا ہے اور اُسی سے درخت بھی جن میں تم مویشیوں کو چرنے کے لئے چھوڑتے ہو۔ طبری نے یہ معنی حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں: تَرْعَوْنَ فِيهِ أَنْعَامَكُمْ - اپنے چوپائے ان میں چھوڑتے ہو کہ وہ درختوں میں چریں، کھائیں اور گھاٹ سے پئیں۔ عکرمہ سے بھی یہی معنی منقول ہیں ، جو حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام تھے۔ ابو عبیدہ نے أَسَامَ يُسیم نقل کیا ہے۔ اونٹ چرائے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۹) ہے۔ سَامَ يَسُومُ سے فعل متعدی ہے۔ کہتے ہیں: استنمت الإِبل: میں نے شَاكِلَتُهُ : نَاحِيَتُهُ - اپنے طریق یا طرز پر ۔ حموی کے نسخہ صحیح بخاری میں ابوذر سے شَاكِلَتُهُ کے معنی نِيتُهُ مروی ہیں۔ یعنی اپنی اپنی نیت کے مطابق ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۹۰) یہ لفظ سورہ بنی اسرائیل میں آیا ہے۔ فرماتا ہے : قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا (بنی اسرائیل: ۸۵) کہو ہر (فریق) اپنے اپنے طریق پر عمل کر رہا ہے۔ پس تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کون زیادہ صحیح راستے پر ہے۔ قَصْدُ السَّبِيلِ الْبَيَان: یعنی ضلالت اور ہدایت کا بیان فرماتا ہے: وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَابِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَهَاكُمْ أَجْمَعِينَ (النحل : ۱۰) اور اللہ ہی کے ذمہ ہے کہ وہ سیدھی راہ کھول کر بتائے اور ان میں سے کئی ٹیڑھے راستے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سبھی کو ہدایت دے دیتا لیکن تمہیں اختیار دیا ہے تا ثواب کے مستحق ہو)۔ عوفی نے حضرت ابن عباس سے یہ معنی روایت کئے ہیں اور طبری نے بھی۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۹۰) دف : اون وغیرہ قسم کی اشیاء جن سے گرمی حاصل کی جاتی ہے۔ فرماتا ہے: وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۚ لَكُمْ فِيهَا دِ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ (النحل : ٦) اور اس نے چوپاؤں کو پیدا کیا ہے جن میں تمہارے لئے گرمی اور کئی منافع حاصل کرنے کا سامان ہے انہیں کا گوشت تم کھاتے ہو۔ تُرِيحُوْنَ بِالْعَشِيِّ وَ تَسْرَحُوْنَ بِالْغَدَاةِ۔ شام کو چراگاہوں سے واپس لاتے ہو اور صبح کو چرنے کے لئے چھوڑتے ہو۔ فرماتا ہے : وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ) (النحل: ۷) اور (اس کے علاوہ) جب تم انہیں چرا کر شام کو (ان کے تھانوں کی طرف) واپس لاتے ہو تو اس میں ایک قسم کا زینت کا سامان ہوتا ہے۔ اسی طرح اس وقت جب تم انہیں ( صبح کو) چرنے کے لئے (آزاد) چھوڑتے ہو۔ (تو اس میں بھی تمہارے لیے زینت اور بڑائی کا سامان ہوتا ہے )