صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 495 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 495

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۴۹۵ ۶۵ - كتاب التفسير / التخل ہے (اور ) اُس میں لوگوں کے لیے شفا ( کی خاصیت رکھی گئی) ہے۔جو لوگ سوچ اور فکر ) سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے اس میں یقینا کئی نشان ( پائے جاتے ) ہیں۔ذللا کے معنی ہیں لَا يَتَوَغَرُ عَلَيْهَا کہ جن راستوں پر شہد کی مکھی کے لئے چلنا دشوار نہیں۔اپنی قوت شامہ کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ جہاں اس کی خوراک ہو آسانی سے جا پہنچتی ہے، اسے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔قتادہ سے ذللا کے معنی مُطيعة مروی ہیں۔اس صورت میں ذللا - اسلکی کا حال ہو گا۔یعنی خدا کی راہ میں چل ایسی حالت میں کہ تو اس کی فرمانبردار ہو۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۹) وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ فِي تَقَلُّبِهِم : اختلافِهِمْ - اُن کے اِدھر اُدھر نقل و حرکت کرنے میں۔اس سے یہ آیت مراد ہے: أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَبَاهُمْ بِمُعْجِزِيْنَ) (النحل: ۴۷) یاوہ انہیں ان کے سفروں میں تباہ کرے۔پس وہ یاد رکھیں کہ) وہ ( ہر گز اللہ کو ان باتوں کے پورا کرنے سے عاجز نہ پائیں گے۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَمِيدُ : تَكَفَ - اُلٹ جائے، غیر متوازن ہو جائے۔وَالقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهُرًا وسُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (النحل:۱۲) اور اس نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنائے ہیں تا وہ تمہیں چکر میں نہ ڈالے ( توازن نہ بگاڑے ) اور دریا ( چلائے ہیں) اور خشکی کے راستے بنائے ہیں تا تم آسانی سے اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو۔مُفْرَطُونَ: مَنْسِيُّونَ۔بھلائے جائیں گے ، نظر انداز کئے جائیں گے۔فرماتا ہے: وَ يَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَ تَصِفُ السِنَتُهُمُ الْكَذِبَ انَ لَهُمُ الْحُسْنَى لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَأَنَّهُمْ مُّغْرَطُونَ (النحل : ٦٣) اور وہ اللہ کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے وہ (خود اپنے لئے ) نا پسند کرتے ہیں اور ان کی زبانیں (بڑی جرآت سے کام لے کر یہ ) جھوٹ بولتی ہیں کہ انہیں ضرور بھلائی مل کر رہے گی۔(مگر یہ ) اٹل بات ہے کہ ان کے لئے (دوزخ کی) آگ کا عذاب مقدر) ہے اور یہ کہ انہیں (اس میں) چھوڑ دیا جائے گا۔وَقَالَ غَيْرُهُ فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہ مجاہد کے سوا اوروں نے کہا: یہ استعاذہ قراءت کے ابتداء میں بھی ہے اور آخر میں بھی، جیسا کہ قرآن مجید کے آغاز میں بھی شیطان سے پناہ مانگی جانے کی ہدایت ہے۔قرآن مجید کے خاتمہ میں بھی دو سورتیں خاص استعاذہ کی ہیں، ایک میں شرِ غَاسِقٍ (الفلق ۴) نہایت تاریک رات کے شر سے پناہ مانگنے کی ہدایت ہے اور دوسری میں الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (الناس :۵) سے، یعنی وسوسہ انداز سے جو پس پردہ رہتے ہوئے بنی نوع انسان کے عقائد و اعمال بگاڑ رہا ہے۔النَّفْتِ فِي الْعُقَدِ (الفلق:۵) سے بھی وسوسہ اندازی کے ہی خیالات بد مراد ہیں جن کے اثر سے شیرازہ معاشرہ کی گرہیں ڈھیلی کی جاتی ہیں۔اگر سورۃ تبت یدا ابی لھب اور سورۃ قُلْ هُوَ اللهُ اَحد کے سیاق میں دیکھا جائے تو عیسائی قوموں سے تعلق رکھنے والے دجال کی حقیقت اور اس کی بولہبی اور فتنہ انگیزی اور ان کی آتش بار جنگوں کے شر عظیم کی ہولناکی کے بارے میں قرآن مجید کے اندار کا بخوبی علم ہو سکتا ہے۔دجال شیطان اکبر کا مظہر اکبر ہے اور اس سے استعاذہ کے معنی یہ ہیں: الاعتصام باللہ اللہ تعالی کی پناہ میں آنا۔قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (الإخلاص:۲) کے ارشاد سے بھی پایا جاتا ہے کہ ابو لہب (آتش بار جنگوں کے موجد ) کا