صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 494
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / النحل ریح : رُوحُ الْقُدُسِ جِبْرِيلُ : روح القدس سے مراد جبریل ہیں۔سورۃ الشعراء میںہے: رانا لتَنْزِيلُ رَبِّ العلمينَ ، نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ بِلِسَانِ عَرَبِي مُبِينٍ (الشعراء: ۱۹۳ ۱۹۶) اور یقینا یہ (قرآن) رب العالمین کی طرف سے اُتارا گیا ہے۔روح امین (امانت دار روح) اسے لے کر تیرے دل پر نازل ہوئی ہے تاکہ تو نذیروں میں سے ایک نذیر ہو۔عربی زبان میں جو کھول کر بیان کرنے والی ہے۔روح امین سے بالا تفاق جبریل مراد لئے گئے ہیں۔امام ابن حجرہ کے نزدیک امام بخاری اس شرح سے ضحاک کی روایت رڈ کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے حضرت ابن عباس سے نقل کی ہے کہ روح امین سے وہ اسم مراد ہے جس کے ذریعے حضرت عیسی علیہ السلام نعوذ باللہ مردے زندہ کیا کرتے تھے۔إِسْنَادُهُ ضَعِيف یعنی اس روایت کی سند کمزور ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۸) غرض امام موصوف نے سورۃ الشعراء کی آیت سے اس بارہ میں استدلال کیا ہے۔ضیقی اور ضیق دونوں طرح ہے بمعنی تنگی یا تنگ۔هَيْن وَ هَيِّين: آسانی اور آسان لين ولين: نرمی اور نرم۔مَيْتٌ وَمَيت: مردہ - لفظ ضَيْقٍ سے یہ آیت مراد ہے : وَاصْبِرُ وَمَا صَبَرُكَ إِلَّا بِاللهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِي ضَيْقٍ مِمَّا يَمْكُرُونَ ) (النحل: ۱۲۸) اور (اے رسول) تو صبر سے کام لے اور تیر اصبر کرنا اللہ کی مدد) سے ہی ہو سکتا) ہے۔اور تو اُن (لوگوں کی حالت) پر غم نہ کھا۔اور جو تدبیریں وہ کرتے ہیں اُن کی وجہ سے تکلیف محسوس نہ کر۔إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِيْنَ هُمْ مُحْسِنُونَ ) (النحل: ۱۲۹) اور یاد رکھ کہ اللہ یقیناً اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے تقویٰ ( کا طریق) اختیار کیا ہو اور جو نیکو کار ہوں۔محسن کے معنی جو اپنے عمل میں حسن پیدا کر دے اور محسن واصل باللہ کو بھی کہتے ہیں جو اپنے عمل کے حسن کی وجہ سے وصال الہی سے باریاب ہوا۔قَالَ ابْن عَبَّاس تَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ: تتقيأ کے معنى تعبياً بطور ہیولی تیار ہو رہے ہیں۔ہیئت اور شکل اختیار کر رہے ہیں۔فرماتا ہے : اَولَم يَروا إلى مَا خَلَقَ اللهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَؤُا ظِلله عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَابِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دخِرُونَ ) (النحل: ۴۹) اور کیا با وجود اس کے کہ وہ ذلیل ہو رہے ہیں۔انہوں نے (کبھی) اللہ کے حضور (تذلل کے ساتھ ) جھکتے ہوئے جو کچھ بھی اللہ نے (اُن کے لیے پیدا کیا ہے اُسے غور سے نہیں دیکھا کہ اُس کے سائے دائیں جانب سے اور شمالی جانبوں سے ادھر اُدھر ہو رہے ہیں۔(پس اسی طرح محمد رسول اللہ لا الم کا سایہ بڑھے گا اور وہ کفار ذلیل ہو کر رہیں گے۔) سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلا : اس سے یہ آیت مراد ہے: ثُمَّ كَلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاء لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (النحل: ۷۰) پھر ہر قسم کے پھلوں میں سے ( تھوڑا تھوڑا لے کر کھا اور اپنے رب کے (بتائے ہوئے ) طریقوں پر جو ( تیرے لیے) آسان ( کیے گئے) ہیں چل۔اُن (مکھیوں) کے بیٹوں سے (تمہارے) پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جو مختلف رنگوں کی ہوتی