صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 493 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 493

صحیح البخاری جلد ۱۰۔۴۹۳ ۶۵ - كتاب التفسير / النحل سے لعِبْرَةً (النحل: ٦٧) وَهِيَ تُؤَنَّثُ ہے (سیدھی راہ کا) بیان کرنا۔اللف وَتُذَكَّرُ، وَكَذَلِكَ النَّعَمُ، الْأَنْعَامُ گرمی حاصل کرنے کا سامان مراد ہے۔ترتیخون سے شام کے وقت چرانا مراد ہے اور تسرحون جَمَاعَةُ النَّعَمِ۔أَكْنَانَا (النحل: ٨٢) سے مراد صبح کے وقت چرانا ہے۔بشق کا ، وَاحِدُهَا كِنَّ مِثْلُ حِمْلٍ وَ أَحْمَالٍ مطلب ہے مشقت سے ، تکلیف برداشت کر کے۔سَرَابِيلَ (النحل: ۸۲) قُمُص ، تَقِيكُمُ عَلَى تَخَوف سے مراد ہے آہستہ آہستہ گھٹا کر یا الْحَرَّ (النحل: ٨٢) وَأَمَّا سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ کمزور کر کے۔الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً، یہ مونث (بھی) بأسكم (النحل: ٨٢) فَإِنَّهَا الدُّرُوعُ۔ہے اور مذکر (بھی) اور اسی طرح نعم ہے۔أَنْعَام - نَعم کی جمع ہے یعنی چوپاۓ۔اسنان دَخَلا بَيْنَكُمُ (النحل : ۹۳) كُلُّ شَيْءٍ کی واحد کی ہے (یعنی پناہ گاہ)۔جیسے جیل سے لَمْ يَصِحَ فَهُوَ دَخَلٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَعْمَالُ یعنی بوجھ۔سَرائیل کے معنی ہیں قمیصیں، حَفَدَةً (النحل: ۷۳) مِنْ وَلَدِ الرَّجُلِ جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور ایسی قمیصیں جو السَّكَرُ مَا حُرِّمَ مِنْ ثَمَرَتِهَا۔وَالرِّزْقُ تمہیں جنگ کے خطرے سے محفوظ رکھتی ہیں، وہ زر ہیں ہیں۔دَخَلًا بَيْنَكُمُ میں دَخَلُ ہر وہ چیز ہے الْحَسَنُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ۔وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ صَدَقَةَ اَنْكَانَ (النحل: ۹۳) کہا: حَفَدَةً کا مطلب ہے مرد کی ذریت سے جو هِيَ خَرْقَاءُ كَانَتْ إِذَا أَبْرَمَتْ غَزْلَهَا اَولاد ہو (یعنی پوتے پوتیاں)۔الشکر وہ ہے جو نَقَضَتْهُ۔وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ الْأُمَّةُ پھل میں سے حرام کیا گیا ہے اور رِزْقُ الحَسَنُ وہ مُعَلِّمُ الْخَيْرِ۔{ وَالْقَانِتُ الْمُطِيْعُ } ہے جو اللہ نے حلال قرار دیا ہے۔اور ابن عیینہ جو اندر سے درست نہ ہو۔حضرت ابن عباس نے نے کہا: صدقہ سے روایت ہے کہ آنگان (یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے) سے مراد خَرْقَاءُ (نامی ایک عورت) ہے، جب وہ اپنا سوت کات لیتی تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی تھی۔اور حضرت ابن مسعودؓ نے کہا: امۃ کے معنی بھلائی سکھانے والا اور قانت کے معنی ہیں فرمانبردار۔1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں " والقانت المطیع ہے۔(فتح الباری جزء۸ صفحہ ۴۸۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔