صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 492
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۹۴ ۶۵ - كتاب التفسير / النحل ١٦ - سُورَةُ النَّحل رُوحُ الْقُدُسِ جِبْرِيلُ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ روح القدس سے مراد جبریل ہیں۔ روح امین الأمين (الشعراء: ١٩٤)۔ في ضَيْق (امانت دار روح) اسے لے کر نازل ہوئی ہے۔ في ضَيْق سے مراد ہے تنگی میں۔ کہا جاتا ہے: (النحل: ۱۲۸) يُقَالُ أَمْرٌ ضَيْقٌ وَضَيِّقَ أَمْرُ ضَيْقُ اور ضیق یعنی پریشان کن معاملہ ۔ مِثْلُ هَيْنٍ وَهَيِّنٍ وَلَيْنٍ وَلَيِّنٍ وَمَيْتٍ جے ھین اور مین: یعنی آسانی یا آسان، اور وَمَيِّتِ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ لَيْنَ وَلَئِن : نرمی اور نرم، اور مَيْت وَمَيت: یعنی تَتَهَيَّا۔ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا (النحل: ۷۰) مرده حضرت ابن عباس نے کہا: تَتَفَيَّا ظِلَالُهُ لَا يَتَوَفَّرُ عَلَيْهَا مَكَانٌ سَلَكَتْهُ۔ وَقَالَ کے معنی ہیں اُس کے سایے ہیئت اور شکل اختیار , سے مراد ایسی ابْنُ عَبَّاسٍ فِي تَقَلبِهم (النحل: ٤٧) کر رہے ہیں۔ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلا جگہ میں اُس کو داخل کرنا ہے جو اُس کے لیے اخْتِلَافِهِمْ وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَمِيدُ تَكَفَّأُ۔ دشوار گزار نہیں ہے۔ اور حضرت ابن عباس مُفْرَطُوْنَ مَنْسِيُّونَ۔ وَقَالَ غَيْرُهُ فَإِذَا نے کہا: فِي تَقَلبِهِمْ کے معنی ہیں اُن کے ادھر قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ اُدھر ہونے میں۔ اور مجاہد نے کہا: تمہید کے معنی الرَّحِيمِ (النحل: ٩٩) هَذَا مُقَدَّمْ وَمُؤَخَّرٌ ، میں الٹ جائے، (غیر متوازن ہو جائے۔) وَذَلِكَ أَنَّ الاِسْتِعَاذَةَ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، مُفْرَطُونَ کے معنی ہیں بھلا دیئے جانے والے۔ اور بعض اوروں نے کہا : ( اے مخاطب ! ) جب تو وَمَعْنَاهَا الاعْتِصَامُ بِاللَّهِ وَقَالَ ابْنُ قرآن پڑھنے لگے تو دھتکارے ہوئے شیطان عَبَّاسٍ تُسِيمُونَ (النحل: (۱۱) تَرْعَوْنَ (کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے) اللہ کی پناہ شَاكِلَتِه (بنی اسرائیل: ٨٥) نَاحِيَتِهِ مانگ لیا کر)۔ یہ (استعاذہ قراءت کے ) ابتداء قَصْدُ السَّبِيلِ (النحل : ۱۰) الْبَيَانُ میں بھی ہے اور آخر میں بھی۔ اور یہی وجہ ہے الدِّفْعُ مَا اسْتَدْفَأْتَ بِهِ۔ تُرِيحُونَ و کہ قراءت سے قبل اَعُوذُ باللہ پڑھا جاتا ہے۔ اور اس (استعاذہ) کے معنی ہیں: اللہ تعالی کی پناہ (النحل: ٧) بِالْعَشِيِّ وَ تَسْرَحُونَ (النحل: ٧) میں آنا۔ اور حضرت ابن عباس نے کہا : تُسیمون بِالْغَدَاةِ۔ بِشِقِّ (النحل: ۸) يَعْنِي الْمَشَقَّةَ۔ کے معنی ہیں تم (جانور) چراتے ہو۔ شاکلتہ کے عَلَى تَخَوف (النحل : ٤٨ ) (النحل: ٤٨) تَنَقُصِ الْأَنْعَامِ معنی ہیں اُس کا ، اُس کا طریق۔ قَصْدُ السَّبِيلِ سے مراد