صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 492 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 492

صحیح البخاری جلد ۱۰ ١٦- سُورَةُ النَّحل ۶۵ - كتاب التفسير / النحل رُوحُ الْقُدُسِ جِبْرِيلُ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ روح القدس سے مراد جبریل ہیں۔روح امین الأمين (الشعراء: ١٩٤)۔في ضيق (امانت دار روح) اسے لے کر نازل ہوئی ہے۔(النحل:۱۲۸) يُقَالُ أَمْرٌ ضَيْقٌ وَضَيِّقَ في ضيق سے مراد ہے تنگی میں۔کہا جاتا ہے: أَمْرُ ضَيْقُ اور ضیق یعنی پریشان کن معاملہ۔وو وکا مِثْلُ هَيْنِ وَهَيِّنِ وَلَيْنِ وَلَيِّنٍ وَمَيْتٍ جسے دین اور هَين: یعنی آسانی یا آسان، اور وَمَيِّةٍ۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ لَيْن وَلَيْن: نرمی اور نرم، اور مَيْتٌ وَمَيَّتُ: یعنی تَتَهَيَّةُ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلا (النحل: ۷۰) مردہ - حضرت ابن عباس نے کہا: تَتَفَيَأْ ظِلَالُهُ لَا يَتَوَكَّرُ عَلَيْهَا مَكَانَ سَلَكَتْهُ۔وَقَالَ کے معنی ہیں اُس کے سایے ہیئت اور شکل اختیار ابْنُ عَبَّاسٍ فِي تَقَلُّبِهِمُ (النحل: ٤٧) کر رہے ہیں۔سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلا سے مراد ایسی جگہ میں اُس کو داخل کرنا ہے جو اُس کے لیے اخْتِلَافِهِمْ۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَمِيدُ تَكَفَّأُ۔دشوار گزار نہیں ہے۔اور حضرت ابن عباس مُفْرَطُوْنَ مَنْسِيُّونَ وَقَالَ غَيْرُهُ فَإِذَا نے کہا: فِی تَقَلبِهِمْ کے معنی ہیں اُن کے ادھر قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطن اُدھر ہونے میں۔اور مجاہد نے کہا: تمھید کے معنی الرَّجِيمِ (النحل: ٩٩) هَذَا مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ ہیں الٹ جائے، (غیر متوازن ہو جائے۔) وَذَلِكَ أَنَّ الِاسْتِعَاذَةَ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، مفرطون کے معنی ہیں بھلا دیئے جانے والے۔اور بعض اوروں نے کہا: (اے مخاطب !) جب تو وَمَعْنَاهَا الاِعْتِصَامُ بِاللَّهِ وَقَالَ ابْنُ قرآن پڑھنے لگے تو دھتکارے ہوئے شیطان عَبَّاس تُسِيمُونَ (النحل: ١١) تَرْعَوْنَ ) کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے) اللہ کی پناہ شَاكِلَتِه (بنی اسرائیل: ۸۵) نَاحِيَتِهِ مانگ (لیا کر)۔یہ (استعاذہ قراءت کے ) ابتداء قَصْدُ السَّبِيلِ (النحل: ١٠) الْبَيَانُ میں بھی ہے اور آخر میں بھی۔اور یہی وجہ ہے الدِّفْءُ مَا اسْتَدْفَأْتَ بِهِ۔کہ قراءت سے قبل اعُوذُ باللہ پڑھا جاتا ہے۔اور اس (استعاذہ) کے معنی ہیں: اللہ تعالی کی پناہ (النحل: ٧) بِالْعَشِي وَ تَسْرَحُونَ (النحل: ٧) میں آنا۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: سیمون بِالْغَدَاةِ۔يشق (النحل: ۸) يَعْنِي الْمَشَقَّةَ کے معنی ہیں تم ( جانور ) چراتے ہو۔شاکلیہ کے على تخوف (النحل: ٤٨) تَنَقُص۔الْأَنْعَامِ معنی ہیں اُس کا طریق۔قصد السبیل سے مراد تُرِيحُونَ