صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 491 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 491

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۹۱ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر سالم بن ابی الجعد سے موصولاً نقل کئے اور طبری نے بھی متعد دسندوں سے مجاہد اور قتادہ و غیرہ سے یہی معنی بیان کئے ہیں اور اس تعلق میں سورۃ المدثر کی آیت کا حوالہ بھی دیا گیا ہے: وَكُنَّا نُكَذِبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّى أَتَنَا اليقين ) ( المدثر: ۴۸،۴۷) یعنی ہم جزاء وسزا کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے یہاں تک کہ ہم پر موت آگئی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۸۷) سب اس تعلق میں مسلم کی اس حدیث کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو حضرت ابوہریرہ سے مرفوعا منقول ہے: مین خیر مَعَاشِ النَّاسِ لَهُمْ ، رَجُلٌ مُمسِكَ عِنَانَ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ ، يَطِيرُ عَلَى مَثْنِهِ، كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً، أَوْ فَزَعَةً طَارَ عَلَيْهِ، يَبْتَغِي الْقَتْلَ وَالْمَوْتَ مَظَانَّهُ، أَوْ رَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ فِي رَأُسٍ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشَّعَفِ، أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ ، لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا فِي خَيْرٍ یعنی سے اچھی زندگی جو لوگوں کے ساتھ کوئی معاشرے میں گزارے، اس شخص کی ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہو اور جب کبھی بھی کوئی خطرے یا خوف کی آواز سنتا ہے تو جہاد اور شہادت کے شوق میں اُس کی پیٹھ پر سوار ہو کر اُڑتا ہوا اس کی طرف جاتا ہے یا اُس شخص کی (ہے) جو اپنی بکریوں کے ساتھ اُن پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کی چوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں ہوتا ہے۔وہ نماز قائم کرتا ہے اور زکوۃ دیتا ہے اور اپنے رب کی عبادت کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے موت آجاتی ہے۔لوگوں میں سے وہ خیر ( کی حالت) میں ہی ہو تا ہے۔لفظ الیقین کا اطلاق موت پر بطور مجاز ہے نہ کہ لغوی معنوں میں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۷) (مسلم، کتاب الإمارة، باب فضل الجهاد والرباط )