صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 490
۴۹۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر صحيح البخاری جلد ۱۰ لوگوں کو المُقْتَسِینَ کہا گیا اور ان کے نام یہ تھے اسود بن عبد یغوث، اسود بن مطلب، عاص بن وائل ، حارث بن قیں اور ولید بن مغیرہ۔یہ قریش کے سرداروں میں سے تھے۔بعض روایات میں یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ پانچوں سردار ایک ہی رات میں ہلاک ہوئے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۶) جہاں تک روایتوں کا تعلق ہے اس کا خلاصہ یہی ہے جو اوپر بیان کر دیا گیا ہے۔لیکن جہاں تک سیاق کلام کا تعلق ہے اس کے معانی میں وسعت ہے۔المُقمِنین کے معنی ہیں وہ لوگ جنہوں نے قسمیں اٹھا کر رسول اللہ صلی ایم کے خلاف منصوبہ تیار کیا ہے۔ان میں سے ہر ایک نے ایک حصہ کام کرنے کا ذمہ لیا تھا۔کسی نے قبائل کو اشتعال دلانے کا کام اور کسی نے فوج کشی کا انتظام اور بعض نے حملہ کرنے والی فوجوں کی خوراک مہیا کرنے کا ذمہ لیا۔اس طرح انہوں نے مدینہ پر حملہ کرنے سے پہلے اپنے منصوبہ کو پختہ کیا اور اس آیت میں ان لوگوں کی سزا کا ذکر ہے کہ انہیں ان کے بد انجام سے آگاہ کر دیا جائے کہ وہ اپنی اس منصوبہ بندی میں ناکام ہوں گے۔الْمُقْتَسِنینَ کے یہی معنی مجاہد سے مروی ہیں : تَقَاسَمُوا - تَخَالَفُوا - یعنی قسمیں کھا کھا کر آپس میں عہد و پیمان کئے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۸۷) روایت زیر باب میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ الْمُقْتَسِین سے مراد اہل کتاب ہیں کہ ان میں سے بعض نے قرآن مجید کی کچھ باتیں جو ان کے حق میں تھیں صحیح تسلیم کیں اور باقی کا انکار کر دیا۔یہی حال اب ان مسلمانوں کا ہے جنہوں نے اہل کتاب کی کھلم کھلی مشابہت اختیار کرلی ہے۔احکام نماز ، روزہ اور پر دہ و غیر ہ پس پشت ڈال دیئے گئے ہیں نہ صرف ان کی نسبت تاویلیں کرنے لگے ہیں بلکہ ان احکام کا مذاق بھی اڑایا جاتا ہے۔علاوہ ازیں مسلمان آنحضرت صل للہ یکم کی پیشگوئی کے مطابق بہتر ہے سے زیادہ فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔ہر فرقہ اپنے خیال کی تائید میں آیات کی تاویل کرتا ہے اور اس لحاظ سے یہ سب لوگ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عضین کے مصداق اور الْمُقْتَسِین سے متعلق و عید کے تحت ہیں۔یہ سب اپنے قول و عمل کا خمیازہ بھگتیں گے۔غرض جیسا کہ قرآن مجید نے آنحضرت صلی اللہ ہم سے ارشاد فرمایا کہ ان سب سے کہہ دو کہ میں تم سب کے لئے نذير مبین ہوں۔آپ نے اس ارشاد کا حق ادا کر دیا اور اندار میں پوری پوری صراحت فرمائی۔جیسا کہ صحیح بخاری کی احادیث میں اس انذار کی کچھ تفصیل گزر چکی ہے۔بَاب : ٥ وَاعْبُدُ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (الحجر: ١٠٠) اور اپنے رب کی عبادت کرتارہ ، یہاں تک کہ تجھ پر موت ( کی گھڑی ) آ جائے قَالَ سَالِمُ الْيَقِينُ (الحجر: ١٠٠) الْمَوْتُ۔سالم نے کہا: الیقین سے مراد موت ہے۔تشريح : وَاعْبُدُ رَبِّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ: سالم نے کہا: اس آیت میں الیقین سے مراد موت ہے۔(جس کا واقع ہو نا یقینی امر ہے ) فریابی، عبد بن حمید و غیرہ نے الیقین کے یہ معنی