صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 489 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 489

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۸۹ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر ٤٧٠٦: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ ۴۷۰۶: عبید اللہ بن موسیٰ نے مجھے بتایا۔ انہوں مُوسَى عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ نے اعمش سے ، اعمش نے ابوظبیان سے ، ابوظبیان عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَمَا نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے ( آیت) انْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِينَ ) ( الحجر : (٩١) كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِینَ کے متعلق روایت کی کہ انہوں نے کہا: یہود اور نصاری نے بعض باتیں قَالَ آمَنُوا بِبَعْضٍ وَكَفَرُوا بِبَعْضٍ مائیں اور بعض کا انکار الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى۔ أطرافه ٣٩٤٥ ٤٧٠٥ - کیا۔ تشريح : الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ: عِضِيْنَ جمع ہے عُضو یا عِضَةٌ کی جو در حقیقت عِضُهَةٌ ہے جیسے شَفَهَةٌ هاء محذوف ہونے کے بعد شَفَةً اور عضہ ہوتا ہے۔ شَفَهَةٌ کے معنی ہونٹ اور عِضْهَةٌ کے معنی ٹکڑا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۶) پوری آیت مع اپنے سیاق کے یہ ہے: وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ، كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِيْنَ الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ، فَوَرَبِّكَ لَنَسْتَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الحجر : ۹۰ تا ۹۴) تو کہہ دے میں ایک کھلا کھلا ہو شیار کرنے والا ہوں۔ اس لیے کہ (خدا کہتا ہے کہ ) ہم نے اُن (لوگوں) کے لیے (بھی) عذاب مقرر کر چھوڑا ہے جنہوں نے (رسول کریم صلی اسلام کے خلاف منصوبوں میں اپنی ڈیوٹیاں تقسیم کی ہوئی تھیں (یعنی) وہ (لوگ) جنہوں نے قرآن کو جھوٹی باتوں کا مجموعہ قرار دیا تھا۔ سو تیرے رب کی قسم ! ہم اُن سب سے جواب طلبی کریں گے اُن کاموں کے متعلق جو وہ کیا کرتے تھے۔ طبری نے بھی پسند قتادہ روایت کی ہے کہ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِینَ کا یہ مفہوم ہے عَضَهُوهُ وَبَهَتُوهُ۔ یعنی انہوں نے اس کی طرف افتراء اور بہتان منسوب کیا۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ العضۂ قریش کی زبان میں السحر کو کہتے ہیں۔ جادوگر العاضهة کہلاتا ہے۔ جنہوں نے عِضِينَ عَضَةً کی جمع قرار دی ہے۔ ان کے نزدیک جَعَلُوا الْقُرْآنَ عضین سے یہ مراد ہے کہ قریش میں سے کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی علیہ کام جادو گر ہیں اور قرآن ایک جادو گر کا کلام ہے۔ ان میں سے بعض نے آپ کو مجنون سمجھا اور کہا کہ یہ مجنون کی باتیں ہیں اور کسی نے آپ کو کاہن قرار دیا اور آپ کی باتیں کاہنوں والی قرار دیں۔ غرض اسی طرح قرآن مجید سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں ہوئیں ۔ مجاہد سے بھی یہی مفہوم مروی ہے اور اس تعلق میں آیت قَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (النحل: ۲۵) کہ یہ پہلوں کی سی خرافات ہیں۔ ہیں۔ یعنی قصے کہانیاں۔ سدی سے مروی ہے۔ الْمُقْتَسِین سے یہ مراد ہے کہ قَشَبُوا الْقُرْآنَ وَاسْتَهْزَءُ وا ہے۔ یعنی انہوں نے قرآن مجید کے حصے بخرے کر دئے اور اس کا مذاق اڑایا۔ الفاظ الْبَعُوضَ وَالذُّبَابِ وَالنَّمل وَالْعَنْكَبوت ( مچھر اور مکھی اور چیونٹی اور مکڑی) کا ذکر جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہے اس پر پھبتیاں اڑائیں، اُن