صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 488 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 488

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۸۸ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر لئے ام الکتاب ہے کہ وہ اصل مقصود ہے۔ ام الشیء کے معنی ہیں کسی چیز کا اصل، جس کا بار بار قصد کیا جائے۔ فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۵) ماں کو بھی انہی معنوں میں اُٹھ کہتے ہیں کہ بچہ دودھ کے لئے بار بار اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اسی مفہوم میں سورۃ فاتحہ ام الْكِتَابِ کہلاتی ہے۔ كَانَهَا تَومه - گویا تو اس کا بار بار قصد کرتا ہے۔ بعض کے نزدیک ا الْكِتَابِ سات لمبی سورتیں ہیں جو السبع الطوال کے نام سے مشہور ہیں، یعنی الْبَقَرَة، آل عمران، النِّسَاءُ الْمَائِدَةُ، الْأَنْعَامُ الْأَعْرَافُ اور یونس۔ اس بارے میں روایت حضرت ابن عباس کی ہے جو طبری نے نقل کر کے ترجیح مذکورہ بالا قول کو ہی دی ہے کہ سورۃ فاتحہ ہی درحقیقت أهم الْكِتَاب ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۵) بَاب ٤ : قَوْلُهُ الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ( الحجر : ٩٢) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: وہ (لوگ) جنہوں نے قرآن کو جھوٹی باتوں کا مجموعہ قرار دیا تھا الْمُقْتَسِينَ ( الحجر : (٩١) الَّذِينَ حَلَفُوا الْمُقْتَسِيْنَ سے مراد وہ ہیں جنہوں نے قسمیں وَمِنْهُ لَا أُقْسِمُ (البلد : ٢) أَيْ أُقْسِمُ، کھائیں۔ اور اس سے لا اقسم ہے۔ یعنی میں وَتُقْرَأُ لَأُقْسِمُ، قَاسَمَهُما (الاعراف: ۲۲) قسم کھاتا ہوں۔ اور لأُقْسِمُ (بھی) پڑھا جاتا حَلَفَ لَهُمَا وَلَمْ يَحْلِفَا لَهُ۔ وَقَالَ ہے۔ یعنی میں ضرور قسم کھاتا ہوں۔ قَاسَهُمَا مُجَاهِدٌ تَقَاسَمُوا ( العمل : ٥٠) تَحَالَفُوا ۔ کے معنی ہیں اس نے ان دونوں سے قسم کھائی اور ان دونوں نے اس سے قسم نہ کھائی۔ اور مجاہد نے کہا: تقاسموا کے معنی ہیں تم سب قسم کھاؤ۔ ٤٧٠٥ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۴۷۰۵: یعقوب بن ابراہیم سے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ کہ ہشیم نے ہمیں بتایا۔ ابو بشر نے ہمیں خبر دی۔ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ انہوں نے سعید بن جبیر سے ، سعید نے حضرت عَنْهُمَا الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ (انہوں (الحجر: ٩٢) قَالَ هُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ نے آیت) الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ (یعنی جَرَّءُوهُ أَجْزَاءً فَآمَنُوا بِبَعْضِهِ وَكَفَرُوا جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے سے متعلق) کہا: وہ اہل کتاب تھے جنہوں نے بِبَعْضِهِ۔ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس کی بعض باتیں مانیں اور بعض کا انکار کیا۔ أطرافه: ٣٩٤٥، ٤٧٠٦ -