صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 487
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۸۷ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ بات نے روکا؟ میں نے عرض کیا کہ میں نماز پڑھ وَلِلرَّسُولِ (الانفال: ٢٥) ثُمَّ قَالَ أَلَا رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا ؟ أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو۔ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَذَهَبَ پھر آپ نے فرمایا: سنو ! میں مسجد سے نکلنے سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَخْرُجَ پہلے تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورۃ بتاؤں فَذَكَرْتُهُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ گا۔ پھر نبی علی ایم مسجد سے) نکلنے لگے تو میں نے (الفاتحة : ٢) هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي آپ کو یاد دلایا۔ آپؐ نے فرمایا : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمين یعنی ہر قسم کی) تعریف کا اللہ ا اللہ (ہی) وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ۔ مستحق ہے (جو) تمام جہانوں کا رب ( ہے۔) یہی أطرافه: ٤٤٧٤، ٤٦٤٧، ٥٠٠٦ سات دہرائی جانے والی (آیات) اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ ٤٧٠٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا ابْنُ ۴۷۰۴ آدم نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی أَبِي ذِنْبِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ذئب نے ہمیں بتایا۔ سعید مقبری نے ہمیں خبر عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: وَسَلَّمَ أُمُّ الْقُرْآنِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي أم القرآن ہی سبع مثانی (سات دُہرائی جانے والی وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ۔ آیات) ہے اور قرآن عظیم ہے۔ تشريح : وَلَقَدْ آتَيْنَكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ : : اس باب کی دونوں روایتوں سے ظاہر ہے کہ سبع مثانی سورہ فاتحہ ہے۔ جس کی مع بسم اللہ سات آیتیں نمازوں میں بار بار دہرائی جاتی ہیں اور نہ صرف بلحاظ الفاظ دہری ہیں یعنی الرحمن - الرَّحِيم ، إِيَّاكَ إِيَّاكَ، صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ وَلَا الضَّالِین، بلکہ معانی کے اعتبار سے اس کی آیتیں تہ بہ تہ ہیں اور قرآن عظیم کی تفصیل مجمل طور پر اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اس سورۃ میں اجمال ہے اور قرآن کریم میں تفصیل۔ اس تعلق میں امام میں امام ابن حجر نے خطابی کا قول نقل کیا ہے کہ ! ہے کہ اس باب سے محمد بن سیرین کا قول رڈ کرنا مقصود ہے ، جن کے نزدیک ام الْكِتَابِ سورۂ فاتحہ نہیں بلکہ لوح محفوظ کا نوشتہ تقدیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سورۂ فاتحہ اس