صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 28
۲۸ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة صحيح البخاری جلد ۱۰ ہیں اور مذکورہ تین فرشتوں کے معین فرائض ہیں۔عربی أمد الألسنة ہے اور عبرانی اس کی ایک شاخ اور بدلی ہوئی شکل ہے۔جو عربی میں بمعنی اصلاح ، ٹوٹی ہوئی ہڈی کا بحال کرنا۔(اقرب الموارد- جبر) انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد بگڑی قوموں کے سنوارنے سے ہے اور وہ وحی جس کا تعلق ہدایت و اصلاح سے ہے، اس کا نزول بذریعہ جبریل ہوتا ہے اور اس ہدایت کا ہدف و مقصود تزکیہ نفوس ہے۔اسی لئے مذکورہ بالا آیت سے ما قبل آیت میں جبریل کا علیحدہ ذکر کیا اور فرمایا ہے: قُلْ مَنْ كَانَ عَدُ الْجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ) (البقرة: ۹۸) تو (ان سے) کہہ دے کہ جو شخص اس وجہ سے جبریل کا دشمن ہو کہ اس نے تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اس (کتاب) کو اُتارا ہے جو اس (کلام) کو جو اس سے پہلے موجود ہے سچا کرنے والی ہے اور مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہے۔ایسے منکروں کا یقینا اللہ دشمن ہو گا جو محض اس وجہ سے ماننے سے انکاری ہیں۔رسول اور کلام نازل کرنے والے سے دشمنی در حقیقت اپنی جان سے دشمنی ہے۔باب کے معنونہ حوالے سے ظاہر ہے کہ میکائیل بھی مرکب نام ہے اور مشیت الہی کا نافذ کرنے والا ہے۔عہد نامہ قدیم کی کتاب دانی ایل سے ظاہر ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا مقرب فرشتہ ہے، جو بنی اسرائیل کو اجنبی حکومت سے رہائی دلانے کے لئے مامور تھا۔( دانی ایل، باب ۱۲: ۱) اس سے میکائیل کے فرض منصبی کی نوعیت کا علم ہوتا ہے کہ دنیاوی امور کی اصلاح اس کے سپر د ہے۔جبریل کا تعلق روحانی امور کی اصلاح سے ہے۔دونوں کا دائرہ عمل جدا اور ہر ایک اپنے دائرہ عمل سے وابستہ ہے۔مذکورہ بالا فرق کی تصدیق نہ صرف عہد نامہ قدیم سے بلکہ اناجیل کے بیانات سے بھی ہوتی ہے۔حضرت زکریا علیہ السلام سے ہم کلام ہونے والا فرشتہ جبریل بتایا گیا ہے، جس نے ان سے اور حضرت مریم علیہ السلام سے کلام کیا اور خوش خبری دی۔(لوقا باب ۱۹:۱ تا ۳۳) حضرت دانیال علیہ السلام کو اپنی ایک رؤیا سمجھ نہیں آتی تھی، اس کی تفہیم کے لئے جو فرشتہ انسان کی صورت میں متمثل ہوا وہ جبریل ہی تھا۔( دانی ایل، باب ۱۵:۸ تا ۲۷) یہ امر کہ آیا یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جبریل کو اپنا دشمن اور میکائیل کو دوست سمجھتے تھے، روایت نمبر ۴۴۸۰ سے ظاہر ہے۔انبیاء علیہم السلام اور ملائکۃ اللہ بلا تفریق قابل تعظیم و تکریم ہیں، مگر جب کوئی قوم جہالت میں مبتلاء ہو جائے اور ادبار وذلت میں ہو تو اپنی نحوست و فلاکت کے اسباب سمجھنے کی جگہ وہ دوسروں کو ملزم گردانتی اور اپنی نجات کی راہ کلیتہ بند کر دیتی ہے۔یہی عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔مذکورہ بالا باب سے متعلق امام ابن حجر نے اور بھی روایتیں نقل کی ہیں، جو امام بخاری نے غیر مستند ہونے کی وجہ سے نظر انداز کر دی ہیں اور بعض مفسرین نے انہیں نقل کر کے اپنے شوق تصنیف کی پیاس بجھائی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۸، ۲۰۹) امام موصوف نے سورۃ البقرۃ کی محولہ آیات سے متعلق یہ ابواب بلا وجہ منعقد نہیں کئے۔