صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 486 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 486

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۴۸۶ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر شريح : وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحَبُ ا وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحَبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ: اس آیت سے متعلق بھی ایک اختلاف ہے جس کی وجہ سے اس کے لئے باب قائم کیا گیا ہے۔اس تعلق میں جو روایت نقل کی گئی ہے اس میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی علیم نے علاقہ حجر میں داخل ہونے سے منع فرمایا کہ اہل حجر کو سزا دی گئی تھی مبادا تمہیں بھی سزادی جائے۔إِلَّا أَنْ تَكُونُوا با کین سوائے اس کے کہ تم گریہ وزاری کرتے ہوئے وہاں جاؤ۔شیخ ابوالحسن نے باکین کی جگہ تائین پڑھا ہے جو بَاءَ يَبُوءُ سے اسم فاعل بَاءٍ ہے یعنی راجع لوٹنے والے۔باء کی جمع پائین ہے، یعنی راجعین۔حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ان علاقوں میں مقیم نہ ہو، کاروبار کے لئے اگر وہاں جانا ہو تو پھر تم وہاں سے لوٹ آؤ۔ابن الستین نے روایت کی ہے لیکن اس کو پسند نہیں کیا اور کہا ہے: لَا وَجْهَ لَهُ۔یعنی اس کی کوئی ضرورت نہیں۔(فتح الباری جز ۸۰ صفحہ ۴۸۴) حجر سے مراد وہ احاطہ یا شہر یا قلعہ ہوتا ہے جس کے گرد پتھروں کی فصیل ہو۔اصحب الحجير سے مراد محمود کا شہر ہے جو حضرت صالح نبی علیہ السلام کی قوم تھی۔کیونکہ یہ شہر فصیلوں سے مضبوط اور محفوظ کیا گیا تھا، اس لئے اس کا نام حجر مشہور ہوا۔متعلقہ آیات یہ ہیں: وَلَقَدْ كَذَّبَ اَصْحُبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ ، وَأَتَيْنَهُمْ ابْتِنَا فَكَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا أَمِنِينَ (الحجر: ۸۱ تا ۸۳) حجر والے بھی مرسلوں کی تکذیب کر چکے ہیں اور ہم نے انہیں اپنے نشان دیئے مگر وہ ان سے رو گردان رہے اور وہ پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بناتے تھے کہ امن سے رہیں۔بَاب ٣ : وَلَقَدْ آتَيْنَكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ٥ (الحجر: ٨٨) اور ہم نے یقینا تجھے سات دہرائی جانے والی ( آیات) اور ( بہت بڑی ) عظمت والا قرآن دیا ہے :٤٧٠٣ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۷۰۳: محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُبَيْبِ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں خبر دی۔انہوں بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ نے خبیب بن عبد الرحمن سے ، خبیب نے حفص بن عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ مَرَّ عاصم سے، حفص نے حضرت ابو سعید بن معلی م الله سة سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی علیکم میرے أَصَلِّي فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ حَتَّى صَلَّيْتُ پاس سے گزرے اور میں نماز پڑھ رہا تھا۔آپ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نے مجھے بلایا، لیکن میں آپ کے پاس نہ آیا۔ثُمَّ أَتَيْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھ لی پھر آیا۔تو آپ فَقُلْتُ كُنتُ أُصَلِّي فَقَالَ أَلَمْ يَقُلِ الله نے فرمایا: تمہیں (میرے پاس) آنے سے کس