صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 485
صحیح البخاری جلد ۱۰ السَّاحِر ۴۸۵ ۶۵ - كتاب التفسير / قُلْتُ لِسُفْيَانَ اَنْتَ سَمِعْتَ ہے۔اور کہا: دھوکہ دینے والے کے منہ پر۔میں عَمْرًا قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ قَالَ نے سفیان سے پوچھا: کیا آپ نے عمرو سے سنا ہے سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ کہ انہوں نے کہا: میں نے عکرمہ سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا؟ انہوں لِسُفْيَانَ إِنَّ إِنْسَانًا رَوَى عَنْكَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نے کہا: جی ہاں۔میں نے سفیان سے کہا کہ ایک آدمی نے آپ سے یوں روایت کی ہے کہ آپ وَيَرْفَعُهُ أَنَّهُ قَرَأَ فُرْعَ (سبا: ٢٤)۔قَالَ نے عمرہ سے ، عمرو نے عکرمہ سے، عکرمہ نے سُفْيَانُ هَكَذَا قَرَأَ عَمْرُو فَلَا أَدْرِي حضرت ابوہریرہ سے روایت کی۔اور وہ اسے سَمِعَهُ هَكَذَا أَمْ لَا قَالَ سُفْيَانُ وَهِيَ مرفوع بیان کرتے تھے کہ آنحضور صلی الیوم نے قِرَاءَتُنَا۔أطرافة: ٤٨٠٠، ٧٤٨١- یوں پڑھا ہے کہ گھبراہٹ دور کر دی گئی۔سفیان نے کہا: عمرو نے اسی طرح پڑھا۔اور میں نہیں جانتا کہ انہوں نے اسی طرح سنا تھا یا نہیں۔سفیان نے کہا: اور یہی ہماری قرآت ہے۔بَاب ٢ : وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَبُ الحِجرِ الْمُرْسَلِينَ (الحجر: ٨١) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) حجر والوں نے (بھی) یقینا (ہمارے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا ٤٧٠٢ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۴۷۰۲ ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنَا مَعْنٌ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكُ عَنْ معن نے ہمیں بتایا، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن عُمَرَ نے عبد اللہ بن دینار سے، عبد اللہ بن دینار نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ الله الا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت قَالَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ لَا تَدْخُلُوا عَلَى کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر والوں کی نسبت فرمایا: تم اس قوم کے آثار ) پر نہ جاؤ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ سوائے اس کے کہ تم گریہ وزاری کرنے والے ہو۔فَإِنْ لَّمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا پس اگر تم گریہ وزاری نہ کرو تو اُن کے پاس نہ عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ جاؤ، مبادا تمہیں وہی عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا۔أطرافه: ۳۳ ، ۳۳۸۰، ۳۳۸۱، ٤٤١٩، ٤٤٢٠۔