صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 484
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۸۴ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر إِلَى صَاحِبِهِ فَيُحْرِقَهُ وَرُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے اسے بیان کیا۔ حَتَّى يَرْمِيَ بِهَا إِلَى الَّذِي يَلِيهِ إِلَى انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو اس الَّذِي هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ حَتَّى يُلْقُوهَا طرح کھولا کہ ایک دوسرے کے اوپر تھی۔ کبھی پہلے إِلَى الْأَرْضِ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ حَتَّى تو سننے والے کے اپنے ساتھی کو پہنچانے سے تَنْتَهِيَ إِلَى الْأَرْضِ فَتُلْقَى عَلَى فَمِ شہاب اسے پکڑ لیتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے۔ اور کبھی وہ اسے نہیں پکڑتا یہاں تک کہ وہ اسے السَّاحِرٍ فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذَّبَةٍ فَيُصَدَّقُ فَيَقُولُونَ أَلَمْ يُخْبِرْنَا يَوْمَ اپنے سے نیچے والے ساتھی کو پہنچا دیتا ہے اور وہ اسے زمین تک پہنچا دیتا ہے۔ اور ایک مرتبہ كَذَا وَكَذَا يَكُونُ كَذَا وَكَذَا سفیان نے کہا: یہاں تک کہ وہ زمین تک پہنچ جاتی فَوَجَدْنَاهُ حَقًّا لِلْكَلِمَةِ الَّتِي سُمِعَتْ ہے اور دھوکہ دینے والے کے منہ پر آجاتی ہے مِنَ السَّمَاءِ۔ تو وہ سو جھوٹ اس کے ساتھ ملا کر بولتا ہے پھر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں: کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن نہیں بتایا تھا کہ ایسا ایسا ہو گا ؟ تو ہم اسے اس بات کی وجہ سے جو آسمان سے سنی گئی تھی سچا سمجھ لیتے ہیں۔ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا علی بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا۔ سفیان نے ہم سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ سے بیان کیا کہ عمرو نے ہمیں یہی بتلایا۔ انہوں أَبِي هُرَيْرَةَ إِذَا قَضَى اللهُ الْأَمْرَ وَزَادَ نے عکرمہ سے نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ جب اللہ کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے۔ وَالْكَاهِنِ۔ اور انہوں نے ( اس روایت میں یہ لفظ ) زائد بیان کیا ہے یعنی اور کاہن ۔۔۔۔ وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ فَقَالَ قَالَ عَمْرُو اور سفیان نے ہم سے بیان کیا اور کہا: عمرو کہتے سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ تھے: میں نے عکرمہ سے سنا کہ حضرت ابو ہریرہ إِذَا قَضَى اللَّهُ الْأَمْرَ وَقَالَ عَلَى فَمِ نے ہمیں بتلایا، کہا: جب اللہ کسی بات کا فیصلہ کرتا