صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 483 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 483

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۸۳ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر الصَّيْحَةُ : الْهَلَكَةُ - یعنی ہلاکت۔ فرماتا ہے : فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَ امْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِيلٍ ( الحجر : ۷۵،۷۴) یعنی (لوط علیہ السلام کی ) قوم کو دن چڑھتے ہی موعودہ سزا نے پکڑ لیا اور اس بستی کو اوپر تلے کر دیا اور ان پر سنگریز پتھر برسائے گئے۔ یعنی زلزلے سے تباہ ہوئے جو آسمانی حملہ تھا۔ صَيْحَةُ اس آواز کو بھی کہتے ہیں جو لڑائی میں بلند کی جاتی ہے۔ اس کے لفظی معنی چنگھاڑ کے ہیں۔ باب 1 : الا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ ( الحجر : ١٩) مگر جو شخص چوری سے ( وحی الہی کی ) کوئی بات سن لے ( اور اُسے بگاڑ کر پھیلائے ) تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ لگا دیا جاتا ہے ٤٧٠١ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۴۷۰۱: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو سے ، عمرو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابوہریرہ سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَضَى الله روایت کی۔ وہ اس روایت کو نبی صلی ایام تک الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ پہنچاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: جب اللہ آسمان بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَالسَّلْسِلَةِ میں کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کی بات سن کر عاجزی سے اپنے پروں کو پھڑ پھڑاتے ہیں عَلَى صَفْوَانٍ قَالَ عَلِيٌّ وَقَالَ غَيْرُهُ صَفْوَانٍ يَنْفُذُهُمْ ذَلِكَ فَإِذَا فُرْعَ عَنْ جس کی ایسی آواز ہوتی ہے جیسے زنجیر کو پتھر پر مارنے سے۔ علی بن عبد اللہ ) کہتے تھے : سفیان قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَا ذَا قَالَ رَبُّكُمْ (سبا: (٢٤) قَالُوا لِلَّذِي قَالَ الْحَقِّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ پہنچا دیتا ہے۔ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ الكبير (سبا: ٢٤) فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو دور کر دی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں : تمہارے رب السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هَكَذَا نے کیا کہا ہے؟ وہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم ہے وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ وَوَصَفَ سُفْيَانُ جس نے حق کہا ہے۔ اور وہ بلند شان اور بڑے بِيَدِهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدِهِ الْيُمْنَى اختيارات والا ہے۔ تب چوری سے سننے والے نَصَبَهَا بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَكَ سن لیتے ہیں اور چوری سے سننے والے اس طرح الشَّهَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا ایک دوسرے کے اُوپر ہوتے ہیں۔ اور سفیان کے علاوہ بعض نے کہا: اللہ اس (امر) کو اُن تک