صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 482 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 482

۴۸۲ صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر ہیں۔ایک کاف مشدد کے ساتھ جو جمہور کی قراءت ہے اور دوسری کاف بلا شذ جو شکر سے ہے۔یہ قراءت ابن کثیر اور زہری سے مروی ہے۔شگر کے معنی نشہ شراب، جس کی وجہ سے انسان مدہوش ہوتا ہے اور اسے صحیح طور پر دکھائی نہیں دیتا۔قتادہ سے شکرت کے معنی سحرت بھی کئے گئے ہیں کہ ہماری آنکھوں کو جادو کیا گیا ہے۔غرض اس اختلاف قراءت کی وجہ سے امام بخاری نے یہ باب قائم کیا ہے اور جمہور کی قراءت قبول کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۲) علامہ عینی نے کلبی سے سُکرت کے معنی اغشیت نقل کئے ہیں اور یہ بھی منقول ہے : مُنعت من النظرِ دیکھنے سے روک دی گئیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۸) بہر حال مفہوم ایک ہی ہے۔بروجا: سورج اور چاند وغیرہ سیارگان کی منزلیں، ان کے مدار و مناطق۔جو منطقة کی جمع ہے یعنی دائرہ حرکت فرماتا ہے: وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَ زَيَّنها للنظرِينَ ( الحجر : ۱۷) اور یقیناً ہم نے آسمان میں (ستاروں کی) کئی منزلیں بنائی ہیں اور ہم نے اُسے دیکھنے والوں کے لئے خوبصورت بنایا ہے۔ہر سیارے اور ستارے کے لئے ایک منطقہ حرکت معین ہے جس سے وہ ادھر اُدھر نہیں ہوتا۔لواقح : یہ لاقح کی جمع ہے۔مُلقَعَةُ بھی انہی معانی میں ہے یعنی حمل قرار پانے والی ہوائیں، بار آور۔مُلْقَحَةً کی جمع ملاقی ہے۔کواقع وصف ہے ریاح کا۔یعنی ہوائیں پانی اٹھائے ہوئے چلتی اور بارآوری کا موجب ہوتی ہیں۔فرماتا ہے: وَاَرْسَلْنَا الرِّيحَ لَواقِحَ فَانْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاسْقَيْنَكُمُوهُ وَمَا أَنْتُمْ لَهُ بِخْزِنِينَ ( الحجر :۲۳) اور ہم نے ( بخارات کو ) اُٹھانے والی ہوائیں (بھی) چھوڑ رکھی ہیں اور (ان کے ذریعہ سے ) ہم نے بادلوں سے پانی اُتارا ہے، پھر وہ تمہیں پلایا ہے۔اور تم خود اسے محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے۔(لیکن اس ذریعہ سے ہم نے اُسے محفوظ کر دیا ہے) اگر یہ طریق نہ ہوتا تو دریاؤں، نہروں اور کنوؤں کا پانی محفوظ نہ رہتا بلکہ مکدر اور متعفن ہو جاتا اور استعمال کے قابل نہ رہتا۔صحتیں بگڑ جاتیں اور فصلوں کے لئے بھی نقصان دہ ہوتا۔حَما جمع ہے عماد کی۔الطينُ الْمُتَغَيَّرُ جیسے گارا الْمَسْنُونُ کے معنی الْمَضْبُوبُ ڈھلا ہوا گارا۔لفظ حما اور مَسْلُون سورۃ الحجر کی آیت نمبر ۲۷ میں آئے ہیں۔فرماتا ہے: وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِنْ حَمَةٍ مسنُون اور انسان کو ہم نے آواز دینے والی مٹی سے یعنی سیاہ گارے سے جس کی ہیئت تبدیل ہو گئی تھی پیدا کیا ہے۔یہ آیت مع تشریح کتاب بدء الخلق میں گزر چکی ہے۔(دیکھئے کتاب بدء الخلق، تشریح باب ۱۲) لا تَوجَلُ : نہ ڈر خوف نہ کھا۔کسی قسم کا دھڑکا نہ رہے۔فرماتا ہے: قَالُوا لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَمٍ عَلِيمٍ (الحجر: ۵۴) انہوں نے کہا (کہ) تو خوف نہ کر۔ہم تجھے ایک بہت علم ( پانے) والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔دایر : اس کے معنی ہیں جڑ کا آخری حصہ۔فرماتا ہے: وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَلِكَ الْأَمْرَ أَنْ دَابِرَ هَؤُلَاةِ مَقْطَوع مصْبِحِيْنَ ) ( الحجر : ۶۷) اور ہم نے اس فیصلے سے اسے آگاہ کر دیا کہ ان لوگوں کی جڑیں صبح ہوتے ہی کاٹ دی جائیں گی۔لفظ داہر مفرد ہے۔چونکہ جمع کی طرف مضاف ہے اس لئے اس کے معنی صیغہ جمع سے کئے گئے ہیں۔یعنی ان کا کچھ نہیں چھوڑا جائے گا، وہ پورے طور پر تباہ کر دیئے جائیں گے۔