صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 481
ΚΑΙ ۶۵ - کتاب التفسير صحیح البخاری جلد ۱۰ كِتَابٌ مَّعْلُومٌ : أَجَلٌ - یعنی مدت معلومہ، مقررہ مدت فرماتا ہے: وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ معلوم ) ( الحجر : ۵) اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس وقت جب اس کے لئے ایک مقررہ فیصلہ ہو چکا ہو۔لَوْ مَا : هَل کا مترادف ہے۔فرماتا ہے: لَوْ مَا تَأْتِينَا بِالمَلبِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصُّدِقِينَ (الحجر: ۸) اگر تُو سچا ہے تو کیوں ملائکہ کو ہمارے پاس نہیں لاتا۔حرف کو حرف ما کے ساتھ مل کر تحریک و ترغیب اور تحریص (اکسانا) کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔کوما کے ذریعے تحریک کی جاتی ہے کہ کیوں نہیں ایسا کیا جاتا۔چنانچہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ کیوں نہیں ملائکہ ہمارے پاس آتے جو شہادت دیں اور تیری تصدیق کریں۔حرف حل حرف لا کے ساتھ مل کر تنگی اس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔یہ قول ابو عبیدہ کا ہے۔(فتح الباری جزء۸ صفحہ ۳۸۲) زمخشری کے نزدیک کو اسی مفہوم میں حرف ما کے ساتھ ترکیب پاتا ہے، جیسے هَل حرف لا کے ساتھ۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۷) شِيَع: أُمَمٌ - اُمتیں - یہ شیعۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں دوست اور ہم خیال لوگ۔فرماتا ہے : ولقد اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي شِيعَ الْأَوَّلِينَ ، وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (الحجر: ۱۱، ۱۲) اور ہم تجھے سے پہلے اگلے لوگوں کی جماعتوں میں بھی رسول بھیج چکے ہیں اور جو رسول بھی ان کے پاس آتا رہا ہے وہ ضرور اس کی ہنسی اُڑاتے رہے ہیں۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ يُهْرَعُونَ مُسْرِ عِینَ: بے تحاشہ بھاگتے ہوئے آئے۔یہ لفظ سورۃ ہود کی ایک آیت میں آیا ہے نہ کہ سورۃ الحجر میں۔وَجَاءَهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِنْ قَبْلُ كَانُوا يَعْمَلُونَ السَّيَاتِ (هود: ۷۹) اور اس کی قوم (غصہ سے ) اس کی طرف بھاگتی ہوئی آئی (اور یہ پہلا موقعہ نہ تھا) پہلے (بھی) وہ (لوگ نہایت خطر ناک) بدیاں کرتے تھے۔ابن ابی حاتم نے بسند علی بن ابی طلحہ معنی مشرِ عِین حضرت ابن عباس سے موصولاً نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جز ۸۰ صفحه ۴۸۲) لِلْمُتَوَشِمِينَ: لِلنَّاظِرِينَ - قوم لوط کی تباہی کے متعلق فرماتا ہے: اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةٍ لِلْمُتَوَشِمِينَ (الحجر: ۷۶) اس (ذکر) میں فراست سے کام لینے والوں کے لیے یقیناً کئی نشان ہیں۔وَ إِنَّهَا لَبِسَبِيلٍ مُّقِيمٍ 0 (الحجر:۷۷) اور وہ (کوئی گمنام جگہ نہیں بلکہ ) ایک بڑے مستقل راستے پر (واقع) ہے۔حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر کتاب احادیث الانبیاء، باب ۱۶ میں بھی تفصیل سے گذر چکا ہے۔سكرت: غشيت - پردے ڈال دیئے گئے۔فرماتا ہے: وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ ، لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ ( الحجر : ۱۶،۱۵) اور اگر (بالفرض) ہم ان پر (شناخت کی) کوئی آسمانی راہ کھول (بھی) دیتے اور وہ اس سے (فائدہ اٹھا کر) حقیقت کو سمجھنے بھی لگتے تو (بھی) وہ (یہی) کہتے (کہ) محض ہماری نظروں پر پردہ ڈالا گیا ہے (ورنہ حقیقت کچھ نہیں) بلکہ ہم (لوگوں) پر (کوئی) جادو کر دیا گیا ہے۔سکرت کے معنی شدت یعنی ہماری آنکھیں دیکھنے سے روک دی گئی ہیں۔لفظ سُکرت کی دو قراء تیں