صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 480
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۴۸۰ ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر مدین میں رہتی تھی اور اس نام کی ایک بستی بھی تھی۔اس علاقے میں گھنے جنگل تھے اور اس وجہ سے مدین کی قوم کا نام اَصْحَبُ الْأَيْكَةِ اصحب الايكة بھی ہے، یعنی جنگل والے۔یہ علاقہ قوم لوط کے علاقہ سے دور نہیں تھا، بلکہ مصر اور بحیرہ مردار کے درمیان سے گزرنے والے تجارتی قافلوں کے راستے پر یہ دونوں علاقے واقع تھے۔یہ تجارتی راستے حجاز اور شام میں سے بھی گزرتے تھے اور جب تک ان راستوں پر آباد تو میں تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لئے ضامن نہ ہوتی تھیں وہ امن سے آجا نہیں سکتے تھے۔اور اس تجارت کے حاصلات سے قوم شعیب نے بہت بڑا فائدہ اٹھایا اور دولت مند ہو گئی اور اس دولت کے گھمنڈ میں انہوں نے احکام الہی کی نافرمانی شروع کر دی اور جب شرارتوں میں بڑھی تو الہی مؤاخذے میں گرفتار ہو کر تباہ ہو گئی، جیسے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم تباہ ہوئی۔ان دونوں قوموں کا ذکر سورۃ الحجر کے پانچویں رکوع (آیت نمبر ۶۲ تا ۸۰) میں ہے اور انہیں کے سیاق میں فرمایا ہے کہ وہ دونوں قومیں بڑے تجارتی راستہ پر واقع ہیں اور آنے جانے والوں کے لئے دیدہ عبرت ہیں کہ جب انہوں نے کھلی کھلی بغاوت کی تو پکڑی گئی۔فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَيَا مَامٍ مبین ) ( الحجر : ۸۰) ہم نے انہیں سخت سزادی اور یہ دونوں جگہیں کھلے راستہ پر واقع ہیں۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ مصر و حجاز سے شام جانے والے قافلے انہیں شاہر اہوں سے گزرتے تھے۔ان دنوں شام تجارت کا بہت بڑا مرکز تھا۔لفظ امام - آمد (بمعنی قصد سے مشتق ہے۔راستے کو اما ما اس لئے کہا گیا ہے کہ يُؤْتُم ہو) اس کے ذریعہ منزل مقصود تک پہنچا جاتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۷) لَعَمرُكَ : لَعَيْمُكَ : تیری زندگی ہی کی قسم۔ابن ابی حاتم نے بحوالہ علی بن ابی طلحہ لعمرك کے یہ معنی حضرت ابن عباس سے نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۱) ثعلبی نے بھی اپنی تفسیر میں یہی لکھا ہے کہ خطاب رسول اللہ صلى الم سے ہے۔لَعَمْرُكَ لَحَيَاتُكَ: تیری زندگی کی قسم۔(عمدۃ القاری جزء۱۹ صفحہ ۷) اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی علیم کی زندگی کے لئے قسم کھانا بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کو اس دنیا میں بھی ایک حیات جاودانی حاصل ہو گی۔دشمن آپ کی زندگی کو ختم کرنا چاہتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کی قسم کھا کر یقین دلاتا ہے کہ یہ زندگی ایسی نہیں کہ ختم ہو بلکہ دنیا کے لئے ہمیشہ برکت کا موجب رہے گی۔تفسیر سورۃ ابراہیم بابا میں شجرہ طیبہ کی جو مثال دی گئی ہے اس کا پھل دائمی ہے۔اس پھل سے یہی مراد ہے کہ آپ کے فیوض سے فیضان ربانی دنیا میں ہمیشہ جاری رہے گا، ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو آپ کی روحانی زندگی کا ثبوت ہوں گے۔لعمرُكَ سے یہ آیت مراد ہے: لَعَمُرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكَرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ ) ( الحجر : ۷۳) (اے ہمارے نبی!) تیری زندگی کی قسم (کہ) یہ (تیرے مخالفین بھی یقینا ( انہی کی طرح) اپنی بدمستی میں بہک رہے ہیں۔یعنی یہ بھی انہیں کی طرح ہلاک ہونا چاہتے ہیں۔قَوْمُ مُنْكَرُونَ: أَنْكَرَهُمْ لُوط۔یعنی حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں نہیں پہنچانا، ان کو او پرا جانا، یعنی اجنبی جانا۔پوری آیت یہ ہے: فَلَمَّا جَاءَ الَ لُوطِ الْمُرْسَلُونَ ، قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمُ مُنكَرُونَ ) ( الحجر : ۶۲، ۶۳) جب مرسل آل لوط کے پاس آئے تو اس نے کہا: تم تو اجنبی لوگ ہو۔