صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 479
صحیح البخاری جلد ۱۰ یح صراط ۶۵ - كتاب التفسير / الحجر ت سے متعلق مجاہد نے کہا ہے کہ راہ مستقیم سے مراد حق ہے جس کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس پر اس کا دارو مدار ہے۔پوری آیت کا مفہوم مع سیاق و سباق یہ ہے کہ شیطان نے معین وقت تک مہلت مانگی جو اسے دی گئی اور اس نے کہا: رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَزَيْنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ قَالَ هَذَا صِرَاطَ عَلَى مُسْتَقِيه ( الحجر : ۴۰ تا ۴۲) یعنی اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے فاوی (حدود سے تجاوز کرنے والا) بنایا ہے اس لئے میں ضرور ان کے لئے دنیا میں (گمراہی کو خوبصورت کر کے دکھا دوں گا اور سب کو حدود سے نکالوں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جو برگزیدہ ہوں۔فرمایا: مجھ تک پہنچنے کی یہی سیدھی راہ ہے۔اس آیت میں شہوات و اھواء نفس اور امیال طبیعہ کا نام شیطان ہے کیونکہ ہر شہوت کا طبعی میلان یہ ہے کہ وہ حدود سے نکلے۔مثال کے طور پر کھانے پینے کی شہوت یعنی خواہش کو لے لیجئے کہ وہ غیر محدود ہے، اگر انسان کا شکم محدود نہ ہوتا تو کھاتا ہی چلا جاتا، کبھی سیر ہونے کو نہ آتا۔اسی طرح اس کی ہر شہوت کا حال ہے۔انسان کو ثواب سبھی حاصل ہوتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے اپنی شہوات پر قابو پاتا ہے اور انہیں حدود کے اندر رکھتا ہے۔اس جدوجہد میں اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت ہے۔لفظ شیطان شطن يا شَيْط سے مشتق ہے۔شَطن کے معنی حق سے دور ہو گیا اور شاطہ کے معنی ہیں هَلك۔اس کے معنی بھڑک اٹھا بھی ہیں۔انہی معنوں میں لفظ اشتیاط ہے۔(اقرب الموارد - شطن، شیط) غرض تحریکات نفسانیہ کے وجود اور ان کی آزمائش ہی سے امتیاز ہو جاتا ہے کہ کون بندہ نفس ہے اور کون بندہ خدا ہے جو اس کے احکام کی پیروی کو مقدم کرتا ہے اور اپنے نفس کی شہوات و خواہشات کو احکام الہی کے تابع رکھتا اور انعام یا سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔یہی مضمون ہے سورۃ الحجر کی مذکورہ بالا آیات کا۔اس کڑی آزمائش کے سوا اللہ تعالیٰ تک رسائی کی اور کوئی راہ نہیں۔هذَا صِرَاطَ عَلَى مُسْتَقِیم کا یہی مفہوم ہے، جیسا کہ طبری نے اس کی شرح بایں الفاظ کی ہے: الحق يَرْجِعُ إِلَى اللهِ وَ عَلَيْهِ طَرِيقُهُ، لَا يُعْرِجُ عَلَى شَنى - حق اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹتا ہے اور یہ وہ سیدھی راہ ہے جو سوائے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے کہیں ادھر اُدھر نہیں جاتی۔امام ابن حجر نے قتادۃ ومحمد بن سیرین وغیرہ کے حوالے سے مذکورہ بالا آیت کی قرآت یہ بھی نقل کی ہے: ھذا صرَاطَ عَلَى مُسْتَقِيمَ - عَلى معنى رَفِيعُ یعنی عالی شان۔علی - صِرَاط کی صفت ہے۔یعنی یہ راہ مستقیم بہت اعلیٰ درجہ کی ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۸۱) سابقہ قراءت مجاہد سے مروی ہے۔اسی اختلاف کے پیش نظر امام بخاری نے اس قراءت کو زیادہ صحیح ثابت کیا ہے۔علامہ عینی نے کسائی کے حوالے سے اس کا مفہوم و عید و تحدید کے معنوں میں نقل کیا ہے جو سیاق کلام کی رُو سے دور کی تاویل ہے۔ان کے نزدیک هذا صراط عَلَى مُسْتَقِیہ ایسا ہی کلام جیسا کوئی کسی سے کہے: تیرا راستہ میرے پاس سے ہی گزرتا ہے تجھے پتہ لگ جائے گا میں کون ہوں۔(عمدۃ القاری جزء 19 صفحہ ۷ ) إِنَّهُمَا لَيَا مَامٍ مُّبِينٍ : یعنی وہ دونوں جگہیں شاہراہ پر واقع ہیں۔حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم علاقہ (جامع البيان للطبرى ، سورة الحجر، آيت قال هذا صِرَاطًا عَلَى مُسْتَقِيم ، جزء ۱۴ صفحه ۷۰)