صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 27 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 27

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۷ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة أَنْ تَسْأَلَهُمْ يَبْهَتُونِي فَجَاءَتِ الْيَهُودُ مفتری لوگ ہیں، اگر انہوں نے جان لیا کہ میں فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اسلام قبول کر لیا ہے، ( پیشتر اس کے کہ ) أَيُّ رَجُلٍ عَبْدُ اللَّهِ فِيكُمْ قَالُوا خَيْرُنَا آپ ان سے (میرے متعلق) پوچھیں تو وہ مجھ پر بہتان لگائیں گے۔ پھر یہود آئے تو نبی صلی اللہ وَابْنُ خَيْرِنَا وَسَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا قَالَ علیہ وسلم نے پوچھا: عبد اللہ تم میں کیسے آدمی ہیں؟ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ کہنے لگے: ہم میں سے بہترین ہیں اور ہم میں سے فَقَالُوا أَعَادَهُ اللهُ مِنْ ذَلِكَ فَخَرَجَ بہترین کے بیٹے ہیں اور ہمارے سردار ہیں اور عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا ہمارے سردار کے بیٹے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: بھلا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ فَقَالُوا بتاؤ تو سہی اگر عبد اللہ بن سلام اسلام قبول کرلے شَرُّنَا وَابْنُ شَرْنَا وَانْتَقَصُوْهُ قَالَ فَهَذَا تم بھی کر لو گے ؟) ؟ کہنے لگے : اللہ ان کو اس سے پناہ میں رکھے۔ یہ سن کر حضرت عبد اللہ باہر آگئے الَّذِي كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُوْلَ اللهِ۔ أطرافه: ۳۳۲۹، ۳۹۱۱، ۳۹۳۸ اور کہنے لگے : میں اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ وہ کہنے لگے : ہم میں سے بد ترین ہے، اور ہم میں سے بد ترین کا بیٹا ہے اور ان کے نقائص بیان کرنے لگے۔ حضرت عبد اللہ بن سلام نے کہا: یا رسول الله ! یہ ہے وہ بات جس سے میں ڈرتا تھا۔ تشریح : مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ: پوری آیت یہ ہے: قُلْ مَنْ كَانَ عَدُ الْجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَ مَلَكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَ جِبْرِيلَ وَمِيْكُلَ فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ لِلْكَفِرِينَ ) (البقرة: ۹۹٬۹۸) تو (ان سے) کہہ دے کہ جو شخص اس وجہ سے جبریل کا دشمن ہو کہ اس نے تیرے دل پر اللہ کے حکم سے اس (کتاب) کو اُتارا ہے جو اس (کلام) کو جو اس سے پہلے موجود ہے سچا کرنے والی ہے اور مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہے۔ (تو اسے یاد رہے کہ) جو شخص (بھی) اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہو تو (ایسے) کافروں کا اللہ بھی یقین دشمن ہے۔ عکرمہ کے نزدیک جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے نام مرکب ہیں۔ جَبَر ، ميك اور سَرَافِ اف تینوں کے معنی عبد ( حکم بجالانے والا) اور ایل بمعنی الله اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت نافذ کرنے والے تو مشیت نافذ کرنے والے تو سب ملائکہ ہی ہوتے