صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 477 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 477

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / إبراهيم الْبَوَارِ (ابراهيم : ۲۹) الْهَلَاكَ ، بَارَ يَبُورُ نکلے ؟ الْبَوَارُ کے معنی ہیں ہلاکت۔ یہ بار یبور بَوْرًا ، قَوْمًا بُورًا بُورًا (الفرقان: ١٩) هَالِكِينَ۔ بَوْرًا ہے ۔ قَوْمًا بُورًا ۔ یعنی ہلاک ہونے والے ۔ ٤٧٠٠ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۴۷۰۰: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ سفیان نے ہمیں بتایا۔ سفیان نے عمرو سے ، عمرو سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نے عطاء سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن نِعْمَتَ اللهِ كُفْرًا ابراهیم : ٢٩) قَالَ عباس سے آیت أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ کے متعلق هُمْ كُفَّارُ أَهْلِ مَكَّةَ۔ سنا۔ یعنی "(اے مخاطب ! کیا تو نے اُن لوگوں کی حالت) کو (غور کی نظر سے ) نہیں دیکھا جنہوں نے ناشکری سے اللہ کی نعمت کو بدل ڈالا۔“ آپ نے فرمایا: یہ ( نا شکر گزار لوگ) کفار اہل مکہ ہیں۔ طرفه ۳۹۷۷ تشريح : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللهِ كُفْرًا: آیت زیر باب پوری یہ ہے: اگر تو الی الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَ اَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ (ابراهیم : ۲۹) (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کی حالت) کو (غور کی نظر سے نہیں دیکھا جنہوں نے ناشکری سے اللہ کی نعمت کو بدل ڈالا۔ اور آپ بھی ہلاک ہوئے) اور اپنی قوم کو (بھی) ہلاکت کے گھر میں (لا) اُتارا۔ صا الَمْ تَرَ کے معنی أَلَمْ تَعْلَمُ بتائے گئے ہیں کہ کیا تجھے علم نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت کے ناقدر دانوں کی ہلاکت کا علم آنحضرت صلی اللہ علم کو ضرت صلی عیدم کو تھا۔ ایسا ہی قاری کے کے علم میں بھی ہے مگر یہ می ہے مگر یہاں عینی مشاہدے کا سوال ہے جس سے کامل یقین حاصل ہوتا ہے اور یہی یہاں مراد ہے۔ مذکورہ بالا معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔ اور عینی نے الم تر کا مفہوم الخر تعجب بیان کیا ہے۔ یعنی کیا تجھے ان لوگوں کی حالت سے تعجب نہیں آتا جنہوں نے الہی نعمت کی ناشکری کی۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ (۶) الْبَوارِ کے معنی ہلاکت اور تباہی کے ہیں۔ بَارَ يَبُورُ بَوْرًا سے بَائِرٌ ہے یعنی ہلاک ہونے والا باید کی جمع بود اور بور بھی ہے۔ قَوْمًا بُورًا : أَيْ هَالِكِین۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک اپنی قوم کو ہلاکت کے آنگن میں : آئین میں پہنچانے والے الانجران ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک ان سے مراد بنو امیہ اور بنو مغیرہ ہیں، کے جو غزوہ بدر میں خود بھی ہلاک ہوئے اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا۔ ☆☆☆ ا (جامع البيان لا البيان للطبری، تفسیر سورة ابراهيم ، آیت اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا، جزء ۱۳ صفحه ۶۷۵)