صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 477
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۷ ۶۵ - کتاب التفسير إبراهيم الْبَوَارِ (ابراهيم : ٢٩) الْهَلَاكَ، بَارَ يَبُورُ نکلے ؟ الْبَوَارُ کے معنی ہیں ہلاکت۔یہ بَارَ يَبُورُ بَوْرًا ، قَوْماً بُورًا (الفرقان: ۱۹) هَالِكِينَ بَوْرًا ہے۔قوما بُورًا۔یعنی ہلاک ہونے والے۔٤٧٠٠ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۴۷۰۰ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ سفیان نے ہمیں بتایا۔سفیان نے عمرو سے ، عمرو سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسِ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نے عطاء سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن نِعْمَتَ اللهِ كُفْرًا (ابراهیم : ۲۹) قَالَ عباس سے آیت اَلَم تَرَ إِلَى الَّذِينَ کے متعلق سنا۔یعنی ”(اے مخاطب !) کیا تو نے اُن لوگوں کی حالت) کو (غور کی نظر سے) نہیں دیکھا جنہوں نے ناشکری سے اللہ کی نعمت کو بدل ڈالا۔“ آپنے هُمْ كُفَّارُ أَهْلِ مَكَّةَ۔طرفه: ۳۹۷۷ نے فرمایا: یہ ( ناشکر گذار لوگ) کفار اہل مکہ ہیں۔تشريح : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللهِ كُفْرًا: آیت زیر باب پوری یہ ہے : آلم توالی الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللهِ كَفْرًا وَ اَحَلُوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِه (ابراهیم :۲۹) (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں ( کی حالت) کو (غور کی نظر سے) نہیں دیکھا جنہوں نے ناشکری سے اللہ کی نعمت کو بدل ڈالا۔اور آپ بھی ہلاک ہوئے) اور اپنی قوم کو (بھی) ہلاکت کے گھر میں (لا) اُتارا۔اَلَمْ تَرَ کے معنی أَلَمْ تَعْلَمُ بتائے گئے ہیں کہ کیا تجھے علم نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ کی نعمت کے ناقدر دانوں کی ہلاکت کا علم آنحضرت لیلی لیلی کیم کو تھا۔ایسا ہی قاری کے علم میں بھی ہے مگر یہاں عینی مشاہدے کا سوال ہے جس سے کامل یقین حاصل ہوتا ہے اور یہی یہاں مراد ہے۔مذکورہ بالا معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔اور عینی نے آکھ تر کا مفهوم الخ تعجب بیان کیا ہے۔یعنی کیا تجھے ان لوگوں کی حالت سے تعجب نہیں آتا جنہوں نے الہی نعمت کی ناشکری کی۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ (۶) البوار کے معنی ہلاکت اور تباہی کے ہیں۔بار يَجُورُ بُورًا سے بائر ہے یعنی ہلاک ہونے والا۔بائد کی جمع بُور اور بور بھی ہے۔قَوْماً بُورًا: أَى هَالِكِین۔حضرت ابن عباس کے نزدیک اپنی قوم کو ہلاکت کے آنگن میں پہنچانے والے الانجران ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک ان سے مراد بنو امیہ اور بنو مغیرہ ہیں ، لے جو غزوہ بدر میں خود بھی ہلاک ہوئے اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا۔(جامع البيان للطبری، تفسير سورة ابراهيم، آيت أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَنَالُوا، جزء۱۳ صفحه (۶۷۵)