صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 476 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 476

صحيح البخاری جلد ۱۰ -۲۵ کتاب التفسير إبراهيم باب ۲ : يُتَيْتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ (ابراهيم : ۲۸) جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں اللہ اس قائم رہنے والی ( اور پاک) بات کے ذریعہ سے ثبات بخشتا ہے ٤٦٩٩: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۴۶۹۹ ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ہمیں بتایا، کہا: علقمہ بن مرثد نے مجھے خبر دی۔قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ عَن انہوں نے کہا: میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا۔سعد الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی نے حضرت براء بن عازب سے روایت کی کہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ إِذَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان وہ سُئِلَ فِي الْقَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا ہے کہ جب اس سے قبر میں پوچھا جاتا ہے تو وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ۔طرفه: ١٣٦٩- تشریح: کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور یہی مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں اللہ اس قائم رہنے والی ( اور پاک) بات کے (ابراهیم : ۲۸) ذریعہ سے (اس) ورلی زندگی میں (بھی) ثبات بخشتا ہے اور آخرت ( کی زندگی ) میں بھی (بخشے گا)۔يُنيتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ: روایت زیر باب سے القَوْلِ الثَّابِتِ کی وضاحت مراد ہے کہ یہ مضبوط قول کلمہ توحید ہے۔حضرت براء بن عازب کی یہ روایت کتاب الجنائز باب نمبر ۸۶ میں مع مفصل تشریح گزر چکی ہے۔باب ٣: اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللهِ كُفْرًا (ابراهيم : ٢٩) (اے مخاطب !) کیا تو نے ان لوگوں ( کی حالت) کو ( غور کی نظر سے) نہیں دیکھا جنہوں نے ناشکری سے اللہ کی نعمت کو بدل ڈالا الم تر (ابراهيم : ٢٩) أَلَمْ تَعْلَمُ كَقَوْلِهِ اَلَہ تر سے مراد ہے کیا تجھے علم نہیں ہوا؟ جیسا کہ الَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا ( البقرة : ٢٤٤) قول ہے: کیا تجھے ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو