صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 475
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۷۵ ۲۵ کتاب التفسير إبراهيم وَاللهِ لَقَدْ كَانَ وَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا میں نے حضرت عمرؓ سے کہا: ابا! بخدا میرے دل النَّخْلَةُ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ قَالَ میں آیا تھا کہ وہ کھجور ہے ، تو انہوں نے کہا: تمہیں لَمْ أَرَكُمْ تَكَلَّمُونَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ (یہ بات) کہنے سے کس نے روکا؟ حضرت ابن أَوْ أَقُولَ شَيْئًا قَالَ عُمَرُ لَأَنْ تَكُونَ عمرؓ نے کہا: مجھے صرف اسی بات نے روکا کہ میں قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا۔نے آپ کو ( اور حضرت ابو بکر کو) بات کرتے نہیں دیکھا اس لئے میں نے برا جانا کہ میں بولوں یا کچھ کہوں۔حضرت عمر نے کہا: اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو یہ مجھے ایسی ایسی بات سے زیادہ پسند تھا۔أطرافه ،۶۱ ۶۲ ، ،۷۲ ،۱۳۱ ۲۲۰۹، ٥٤٤٤، ٥٤٤٨، ٦١٢٢، ٦١٤٤- مريح : كَشَجَرَةٍ طَيْبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتُ وَ فَرْعُهَا فِي السَّمَاء : اس باب کی معنونہ آیت پوری یہ ہے: أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيْبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السماء (ابراهیم :۲۵) کیا تو نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے کس طرح پاکیزہ کلمہ کی مثال اس پاکیزہ درخت کی مانند دی ہے جس کی جڑ مضبوط اور شاخ آسمان کی بلندی میں ہوتی ہے۔روایت نمبر ۴۶۹۸ سے بتایا گیا ہے کہ مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے جس کی جڑیں مضبوط اور جس کا تنا بلند و بالا اور شاخیں شیریں اور ثمر ہمیشہ سرسبز اور بار آور ہوتا ہے۔کھجور کے پھل میں غذایت کے مکمل اجزاء ہوتے ہیں جنہیں آج کل کی اصطلاح میں حیاتین (Vitamins) کہتے ہیں۔آنحضرت صل اللهم افطاری میں کھجور کو مقدم فرمایا کرتے تھے۔اس وقت جبکہ جسم غذایت کا محتاج ہوتا ہے، کھجور ، کیلا اور آم ان پھلوں میں شمار ہوتے ہیں جو بطور غذا استعمال کئے جاتے ہیں۔یوپی میں آموں کے موسم میں آم بطور خوراک استعمال کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ اور کوئی غذا نہیں کھائی جاتی۔یہی حال عرب کا تھا کہ کھجور پر گزارہ کیا کرتے تھے۔امام ابن حجر کا کہنا ہے کہ اس باب سے ان لوگوں کا خیال رد کرنا مقصود ہے جن کے نزدیک مومن کی مذکورہ بالا مثال سے ناریل (کھوپرہ) مراد ہے کہ وہ ہر ماہ میں پھل دیتا ہے۔اس بارے میں ابن مردویہ کی ایک روایت بھی مروی ہے جو ضعیف ہے اور روایت نمبر ۴۶۹۸ کے مقابل میں قابل رو ہے۔فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ سے یہ مراد بھی لی گئی ہے کہ مومن بلند و بالا درخت کی طرح اپنی بلندی کی وجہ سے زمینی تعفنات سے محفوظ ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۸۰) یہ