صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 474
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۴۷۴ ۲۵ - كتاب التفسير / إبراهيم جڑوں سمیت اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہو اور جسے کہیں بھی قرار نہ ملے۔ حضرت ابن عباس سے بسند عوفی مروی ہے کہ کافر کا عمل رد کر دیا جاتا ہے اور تلخ نتائج پیدا کرتا ہے۔ اس کے عمل کی مثال روی درخت سے دی گئی ہے، جس کی جڑیں بودی، تنا کمزور ، شاخیں پست ہوں اور جو بے برگ وبار ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کافر پست خیال اور کو تہ نظر و فکر ہوتا ہے۔ اس کے عمل میں بلند پروازی نہیں ہوتی اور نہ ثبات و قرار۔ اور بسند ضحاک ان سے مروی ہے کہ مَا لَهَا قَرار کے معنی ہیں کہ مَا لَهَا أَصْلُ وَلَا فَرْعُ وَلَا ثَمَرَةً وَلَا مَنْفَعَةٌ ۔ یعنی وہ ایسا درخت ہے جس کی بیخ و بن نہیں، جس کی شاخ نہ ہو، بے پھل ہو اور وہ ناکارہ ہو۔ اسی طرح کافر کے قول و عمل میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اس کے کاموں کو بے برکت اور بے سود رکھتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۹) بَاب ۱ : كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أَكْلَهَا كُلَّ حِيْنِ (ابراهيم : ٢٦٠٢٥) وہ ایک پاک درخت کی طرح ہوتا ہے جس کی جڑ مضبوطی کے ساتھ) قائم ہوتی ہے اور اس کی ( ہر ایک) شاخ آسمان کی بلندی میں (پہنچی ہوتی ) ہے۔ وہ ہر وقت اپنا ( تازہ) پھل دیتا ہے ٤٦٩٨ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۴۶۹۸: عبید بن اسمعیل نے مجھ سے بیان کیا۔ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعِ انہوں نے ابو اسامہ سے ، ابو اسامہ نے عبید اللہ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سے ، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ تُشْبِهُ ہم رسول الله می میرم رسول الله صلی السلام کے پاس تھے۔ آپ نے فرمایا: أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُ وَرَقُها مجھے ایک ایسا درخت بتلاؤ جو مسلمان شخص کے مشابہ یا اس کی طرح ہے۔ اس کے پتے نہیں وَلَا وَلَا وَلَا، تُولَّى أَكُلَهَا كُلَّ حِينِ گرتے ۔ اور نہ ایساہے اور نہ ایسا اور نہا اور نہ ایسا۔ وہ اپنا ابراهيم : ٢٦) قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِي پھل ہر وقت دیتا ہے۔ حضرت ابن عمر کہتے تھے: نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرِ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور ہے۔ اور میں نے وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ فَكَرِهْتُ أَنْ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو دیکھا کہ وہ نہیں أَتَكَلَّمَ فَلَمَّا لَمْ يَقُولُوا شَيْئًا قَالَ بول رہے تو میں نے برا جانا کہ میں بات کروں۔ صا نے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ پر جب وہ کچھ نہ بولے تو رسول اللہ صلی اللی سیم النَّخْلَةُ فَلَمَّا قُمْنَا قُلْتُ لِعُمَرَ يَا أَبَتَاهُ فرمایا: وہ کھجور ہے۔ پھر جب ہم کھڑے ہوئے تو