صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 473 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 473

-۶۵ کتاب التفسير إبراهيم صحیح البخاری جلد ۱۰ گومیری موت میں ڈھیل ہو جائے ، میرے آگے وہ وقت نہیں جس میں مجھے سونٹا پکڑنا ہو گا جس پر انگلیاں اکٹھی ہوں گی۔اور لفظ ورائہ کے اسی مفہوم میں نابغہ ذبیانی کا قول ہے: وَلَيْسَ وَرَاءَ اللَّهِ لِلْمَرْءِ مَذْهَبْ یعنی الله کے ماوراء کہیں جانے کی جگہ نہیں۔ثعلب نے وَرَاءُ کا معنی مَا تَوَارَى عَنِ الشخص بتائے ہیں۔یعنی جو انسان سے پوشیدہ ہو۔قطرب کے نزدیک یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔یعنی آگے پیچھے دونوں جہتوں پر اطلاق پاتا ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۷۹) لكُمْ تَبَعًا : تبع کے معنی ہیں تابعدار یہ لفظ تابع کی جمع ہے۔جیسے غائب کی جمع غیب ہے۔اس سے یہ آیت مراد ہے : وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَا مِنْ عَذَابِ اللهِ مِنْ شَيْءٍ قَالُوا لَوْ هَدينَا اللهُ لَهَدَيُنَكُمْ - سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ تَحِيصٍ (ابراھیم : ۲۲) اور وہ سب اللہ کے سامنے کھلے طور پر حاضر ہو جائیں گے۔تب کمزور ان لوگوں سے کہیں گے جنہوں نے تکبر کیا ہے کہ ہم تو تمہارے پیچھے چلنے والے تھے ، سو کیا تم اللہ کے عذاب میں سے اس وقت ہم سے کچھ بھی دور کر سکتے ہو۔وہ کہیں گے اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی تمہیں ہدایت دیتے۔برابر ہے ہم پر اگر ہم بے صبری کا اظہار کریں یا ہم صبر کریں، ہمارے لئے کوئی بچاؤ کی صورت نہیں۔مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُم : مَا أَنَا مغیثكُمْ۔میں تمہاری فریاد رس نہیں کرنے کا۔فرماتا ہے کہ جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان اپنے متبعین سے کہے گا کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے جو وعدہ کیا تھا وہ میں پورا نہیں کر سکا۔میر ا تم پر کوئی تسلط نہیں تھا ہاں میں نے تمہیں اپنی طرف بلایا تو تم نے میری دعوت کو قبول کر لیا۔اب تم مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ کو ملامت کرو۔مَا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِى (ابراهیم :۲۳) نہ میں تمہاری فریاد سن سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد سُن سکتے ہو۔استَطرَ خَنِی اسْتَغَاثَنِی - مجھ سے فریاد کی اور مدد طلب کی۔يُقَالُ اسْتَضَرَ خَنِی فَأَضَرَ خُشے۔کہا جاتا ہے کہ میں نے اس کی فریاد پہ اس کی مدد کی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۹) ولا خلل: کوئی دوستی نہیں۔یہ لفظ مصدر ہے اور خاللت اسی سے ہے۔کہتے ہیں: اللہ میں نے اس سے گہری دوستی رکھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خلال خلہ کی جمع بھی ہے۔یعنی گہری دوستی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۷۸) اس لفظ سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے: قُلْ لِعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرا و عَلَانِيَةً مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمَ لَا بَيْعُ فِيهِ وَلا خلل (ابراهيم : ۳۲) (اے رسول!) میرے ان بندوں سے جو ایمان لا چکے ہیں کہہ کہ وہ اُس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی بیع و شراء) ہوگی اور نہ ہی کوئی گہری دوستی، نماز کو عمدگی سے ادا کیا کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے پوشیدگی میں (بھی) اور ظاہر میں ( بھی ہماری راہ میں) خرچ کیا کریں۔احتُثَتُ: اسْتَؤْصِلت - جڑ سے اکھاڑ دی گئی۔فرماتا ہے: وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِ اخْتُثَتْ مِن فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ( ابراھیم (۲۷) اور بری بات کی مثال روی درخت کی سی ہے جو زمین سے