صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 472
صحیح البخاری جلد ۱۰ -۲۵ کتاب التفسير إبراهيم کے مترادف الفاظ میں محاورہ عربوں میں پایا جاتا ہے اور قرآن مجید میں بھی بیان ہوا ہے۔اس ضمن میں امام ابن حجر نے ایک شاعر کا قول رکنے کے مفہوم میں نقل کیا ہے: يَرُدُّونَ فِي فِيهِ غَيْظِ الْحَشود- حاسد کا غصہ اس کے منہ میں لوٹاتے ہیں کہ وہ غیظ و غضب کے مارے اپنی انگلیاں کاتا ہے۔بعض نے آیت کے یہ معنی کئے ہیں: رَدَّ الْكُفَّارُ أَيْدِی الرُّسُلِ فِي أَفْوَاهِهِمْ مَعْنَى أَنَّهُمُ امْتَنَعُوا مِنْ قَبُولِ كَلَامِهِمْ - ( فتح البارى جزء ۸ صفحہ ۴۷۸) یعنی کفار نے ان کی بات قبول نہیں کی۔سیاق کلام سے بھی یہ مفہوم واضح ہے۔فرماتا ہے: الم يَأْتِكُمْ نَبُوا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نوح وَعَادٍ وَ ثَمُودَ وَالَّذِيْنَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللهُ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَتِ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي وَقَالُوا إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ وَ إِنَّا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْهِ مُرِیب (ابراهیم : ١٠) کیا جو لوگ تم سے پہلے تھے یعنی نوح کی قوم اور عاد اور مشہود اور جو اُن کے بعد ہوئے ، ان کی نسبت دلوں کو دہلا دینے والی خبر تمہیں نہیں پہنچی؟ (وہ ایسے نابود ہوئے اور مٹائے گئے کہ) اللہ کے سوا (آب) انہیں کوئی (بھی) نہیں جانتا۔(جب) ان کے پاس اُن کے رسول (ہمارے ) روشن نشان لے کر آئے تو انہوں نے ان کی بات نہ مانی اور کہا (کہ) جس (تعلیم) کے ساتھ تمہیں بھیجا گیا ہے اس کا (تو) ہم انکار کر چکے ہیں اور جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو اس کے متعلق ہم ایک بے چین کر دینے والے شک میں ( پڑے ہوئے) ہیں۔علامہ عینی نے بھی رُدُّ وأَيْدِيَهُمْ کا یہی مفہوم بیان کیا ہے کہ کفار نے اپنا ہاتھ انبیاء کے منہ پر رکھا کہ چپ رہو ہم تمہاری باتیں سننے کے لئے تیار نہیں۔(عمدۃ القاری جزء۱۹ صفحہ (۳) ہمیں تمہارے متعلق شک ہے تم راستباز نہیں۔غرض مراد واضح ہے جو نسی بھی تاویل اختیار کی جائے۔مَقَاهِيَ : حَيْثُ يُقِيمُهُ اللهُ بَيْنَ يَدَيْهِ - یہ وعدہ ان کے لئے اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنے مقام محاسبہ سے ڈرتے ہیں جہاں اللہ انہیں اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔اس لفظ سے یہ آیت مراد ہے: وَلَنُسْكِنَتَكُمُ الْأَرْضَ مِنْ بَعْدِهِمْ ذلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ O (ابراهیم : ۱۵) اور ان کی ہلاکت) کے بعد اس ملک میں ضرور تمہیں آباد کر دیں گے۔یہ (وعدہ) اس کے حق میں ہے جو میرے مقام سے ڈرے اور نیز میری انداری پیشگوئیوں سے ڈرے۔یہ معنی حضرت ابن عباس سے مروی ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳) اور ابو عبیدہ سے بھی۔اس تعلق میں فراء نے ایک شاعر کا قول نقل کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقام مصدر ہے اور وہ فاعل کی طرف مضاف ہے۔آئی قیامی عليه بالحفظ: یعنی میری نگرانی کا خوف رکھیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۸) امام بخاری نے پہلے معنی قبول کئے ہیں۔مِنْ وَرَ آبِه قُدَّامِهِ جَهَنَّمُ - اس کے سامنے جہنم ہوگی۔پوری آیتیں یہ ہیں: مِنْ وَرَ آبِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدِه يَتَجَزَعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِ مَكَانٍ وَ مَا هُوَ بِمَيْتٍ - وَمِنْ وَرَابِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ (ابراهیم : ۱۸،۱۷) اس (دنیوی عذاب) کے بعد ( اس کے لئے ) جہنم کا عذاب بھی مقدر) ہے اور (وہاں) اسے تیز گرم پانی پلایا جائے گا۔وہ اُسے تھوڑا تھوڑا کر کے بیٹے گا اور اُسے آسانی سے نگل نہیں سکے گا اور ہر جگہ ( اور ہر طرف سے ) اس پر موت آئے گی اور وہ مرے گا نہیں اور اس کے علاوہ بھی (اس کے لیے ) ایک سخت عذاب ( مقرر ) ہے۔ابو عبیدہ نے ورائد کے معنی قدامہ کئے ہیں اور ایک شاعر کا قول بھی نقل کیا ہے: أَلَيْسَ وَرَائِي إِنْ تَرَاخَتْ مَنِيَّتِي لزُومُ الْعَصَا تُحْتَى عَلَيْهَا الْأَصَابِعُ