صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 471
صحیح البخاری جلد ۱۰ ا ۶۵ - كتاب التفسير / إبراهيم ( اس نیت سے نہ بیٹھا کرو کہ جو اللہ پر ایمان لائے ہیں انہیں اللہ کی راہ سے ڈراؤ دھمکاؤ اور روکو اور تم اس راہ میں ٹیڑھا پن اختیار کرنا چاہتے ہو اور یاد کرو وہ وقت جب تم تھوڑے تھے اور اس نے تمہیں زیادہ کر دیا اور ہمیشہ مد نظر رکھو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا رہا ہے۔ یہ آیات سورہ ابراہیم میں نہیں لیکن امام ابن حجر کے نزدیک مجاہد کے تفسیری حوالجات میں یہ ضمنا نقل کی گئی ہیں۔ صحیح بخاری کے اس نسخے میں جو ابو ذر کی طرف منسوب ہے اس آیت کی تفسیر اگلے باب سے پہلے منقول ہے۔ یعقوب ابن سکیت کے نزدیک لفظ عوج عین کی زیر سے ہے اور اس سے مراد کج روی اور فتنہ و فساد ہے جو ملک و دین میں پیدا کیا جاتا ہے اور عوج عین کی زبر سے لکڑی وغیرہ ایسی اشیاء کے ٹیڑھے پن کو کہتے ہیں جن میں استقامت اور استواری مطلوب ہو۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۸) وَ إِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ : أَعْلَمَكُمْ آذَنَكُمْ - جب تمہارے رب نے تمہیں آگاہ اور خبردار کیا۔ یہاں حرف اذ زائدہ نہیں بلکہ یہ اُذْكُرُوا کے مفہوم میں ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳) فرماتا ہے : وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ ) (ابراهیم : (۸) اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب تمہارے رب نے (انبیاء کے ذریعے سے ) اعلان کیا تھا کہ (اے لوگو !) اگر تم شکر گزار بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو (یاد رکھو) میر اعذاب یقینا سخت ہوا کرتا ہے۔ اہل لغت کے نزدیک تَأَذَّنَ إِيذان سے باب تفعل ہے جس میں تاکید پائی جاتی ہے، اور بعض عرب اذن اور تاذن ایک ہی مفہوم میں بولتے ہیں۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۸) علامہ عینی نے بھی تاذن کا مترادف إيذان سے نہیں بلکہ تاذین سے مشتق بتایا ہے، یعنی أَذَن رَبُّكُمْ : تمہارے رب نے اعلان کیا۔ اس تعلق میں علامہ زمخشری کا قول بھی نقل کیا ہے کہ تَأَذَّنَ وَآذَنَ کی مانند تَوَعَدَ وَأَوْعَدَ ، تَفَضَّلَ وَأَفْضَلَ ہے اور لکھا ہے کہ تفعل میں معنی کی کوئی ایسی زیادتی نہیں ہے جو أَفعل میں نہیں اور آیت إِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمُ سے مراد إِيذَانَا بَلِيعًا تَنْتَفِي عِنْدَهُ الشُّكُوك ہے۔ پورے طور پر اعلان کر دیا جس سے شکوک و شبہات رفع ہوں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳) رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِم : ہاتھ اپنے مونہوں میں لوٹائے ۔ وہ شخص جو حق قبول نہیں کرتا، بات سن کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیتا ہے ، کہتے ہیں : رَدَّ يَدَهُ فِي فَيهِ - إِذَا أَمْسَكَ وَلَمْ يُجِبْ - یعنی چپ رہا اور جواب نہ دیا۔ رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ هَذَا مِثْلُ كَفُوا عَمَّا أُمِرُوا ہو۔ یعنی یہ مثال ہے کہ جس بات کا حکم دیئے گئے اس سے وہ رک گئے۔ ابو عبیدہ کے نزدیک یہ اسلوب بیان مجازی ہے اور بطور مثال کے ہے۔ ابو عبیدہ کی اس تاویل پر اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ محاورہ ان معنوں میں عربوں سے نہیں سنا گیا۔ عبد بن حمید نے اس آیت کے تعلق میں بسند ابوالا حوص حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا یہ قول نقل کیا ہے : عَضُوا عَلَى أَصَابِعِهِمْ - یعنی اپنی انگلیاں کاٹیں اور حاکم نے اس کی سند صحیح قرار دی ہے۔ اس مفہوم کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے: و ہے : وَإِذَا خَلَوْا عَضُوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللَّهَ اللهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (آل عمران: ۱۲۰) اور جب وہ علیحدہ ہو ۔ ندہ ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں۔ تو (ان سے) کہہ دے تم اپنے غصہ (کے سبب) سے مر جاؤ۔ اللہ یقینا سینہ کے رازوں تک کو خوب جانتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۸) اس حوالے سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ محولہ بالا آیت