صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 471
-۲۵ کتاب التفسير / إبراهيم صحيح البخاری جلد ۱۰ اس نیت سے ) نہ بیٹھا کرو کہ جو اللہ پر ایمان لائے ہیں انہیں اللہ کی راہ سے ڈراؤ دھمکاؤ اور رو کو اور تم اس راہ میں ٹیڑھا پن اختیار کرنا چاہتے ہو اور یاد کر وہ وقت جب تم تھوڑے تھے اور اس نے تمہیں زیادہ کر دیا اور ہمیشہ مد نظر رکھو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا رہا ہے۔یہ آیات سورہ ابراہیم میں نہیں لیکن امام ابن حجر کے نزدیک مجاہد کے تفسیری حوالجات میں یہ ضمناً نقل کی گئی ہیں۔صحیح بخاری کے اس نسخے میں جو ابوذر کی طرف منسوب ہے اس آیت کی تفسیر اگلے باب سے پہلے منقول ہے۔یعقوب ابن سکیت کے نزدیک لفظ عو حج عین کی زیر سے ہے اور اس سے مراد کج روی اور فتنہ وفساد ہے جو ملک و دین میں پیدا کیا جاتا ہے اور عومج عین کی زبر سے لکڑی وغیرہ ایسی اشیاء کے ٹیڑھے پن کو کہتے ہیں جن میں استقامت اور استواری مطلوب ہو۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۸) وَ إِذْ تَاذَنَ رَبُّكُمْ : أَعْلَمَكُمْ أَدْنَكُمْ - جب تمہارے رب نے تمہیں آگاہ اور خبر دار کیا۔یہاں حرف ران زائدہ نہیں بلکہ یہ اُذْكُرُوا کے مفہوم میں ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳) فرماتا ہے: وَاذْ تَاذَنَ رَبُّكُمْ لَبِنْ شَكَرْتُهُ لاَزِيدَ تَكُمْ وَلَينْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيد ابراهیم : ۸) اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب تمہارے رب نے (انبیاء کے ذریعے سے ) اعلان کیا تھا کہ (اے لوگو ! ) اگر تم شکر گزار بنے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو ( یا درکھو) میر اعذاب یقینا سخت ( ہوا کرتا) ہے۔اہل لغت کے نزدیک تادن ايذان سے باب تَفَعَل ہے جس میں تاکید پائی جاتی ہے، اور بعض عرب أذن اور تاذن ایک ہی مفہوم میں بولتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۷۸) علامہ عینی نے بھی تاذان کا مترادف إِيذان سے نہیں بلکہ تاذین سے مشتق بتایا ہے، یعنی أَذَن ربیگھہ : تمہارے رب نے اعلان کیا۔اس تعلق میں علامہ زمخشری کا قول بھی نقل کیا ہے کہ تَأْذَنَ وَآذَنَ کی مانند توعد وَأَوْعَدَ، تَفَضَّلَ وَأَفْضَل ہے اور لکھا ہے کہ تفعل میں معنی کی کوئی ایسی زیادتی نہیں ہے جو افعل میں نہیں اور آیت إذْ تَاذَنَ رَبُّكُمْ سے مراد إِيذَانَا بَلِيعًا تنتَفِي عِندَهُ الشكوك ہے۔پورے طور پر اعلان کر دیا جس سے شکوک وشبہات رفع ہوں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۹ صفحہ ۳) رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ : ہاتھ اپنے مونہوں میں لوٹائے۔وہ شخص جو حق قبول نہیں کرتا، بات سن کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیتا ہے، کہتے ہیں: رَد يَدَها في فمي - إِذَا أَمْسَكَ وَلَمْ يُحِب - یعنی چپ رہا اور جواب نہ دیا۔رَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ هَذَا مِثْلُ كَفُّوا عما أُمِرُوا بِهِ۔یعنی یہ مثال ہے کہ جس بات کا حکم دیئے گئے اس سے وہ ہرک گئے۔ابو عبیدہ کے نزدیک یہ اسلوب بیان مجازی ہے اور بطور مثال کے ہے۔ابو عبیدہ کی اس تاویل پر اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ محاورہ ان معنوں میں عربوں سے نہیں سنا گیا۔عبد بن حمید نے اس آیت کے تعلق میں بسند ابو الا حوص حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا یہ قول نقل کیا ہے: عَضُوا عَلَى أَصَابِعِهِمْ - یعنی اپنی انگلیاں کاٹیں اور حاکم نے اس کی سند صحیح قرار دی ہے۔اس مفہوم کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے: وَاذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ه ( آل عمران: ۱۲۰) اور جب وہ علیحدہ ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں۔تو (ان سے) کہہ دے تم اپنے غصہ (کے سبب) سے مر جاؤ۔اللہ یقینا سینہ کے رازوں تک کو خوب جانتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۷۸) اس حوالے سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ محولہ بالا آیت